فلکیات »

January 9, 2013 – 3:49 am | ترمیم

عذاب ِیوم کے دن کی طوالت پچاس ہزار سال ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

ستاروں کے چال چلن سے لوگ مستقبل کا حال بتاتے ہیں ۔ طرح طرح کے دل دہلانے والے انکشافات …

مزید پڑھیے »
ہم مسلمان کیسے ہوئے؟

کن سائنسی تحقیقات کے نتائج نے ہمیں اسلام کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا اور پھر ہم مسلمان ہو گئے

صحت وتندرستی

انسانی صحت کے متعلقہ انٹرنیٹ پٔر شائع ہونے والے مفید مضامین پڑھیے

سائنسی خبریں

سائنسی شعبہ میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات پر مشتمل مضامین پڑھیے

موسمیات

ہوا ، بادل ،پانی اور بارش کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اللہ کی قدرت ان میں کیسے جلوہ گر ہے .

تمہید و ابتدائیہ

قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے ، وغیرہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔

صفحہ اول » تاریخی واقعات

یہود کو دعوتِ مباہلہ

کاتب نے – August 23, 2011 – کو شائع کیا

        سورة البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُالْاٰخِرَةُ عِنْدَاللّٰہِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُالْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنِ ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًم ا بِمَا قَدَّ مَتْ اَیْدِیْھِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْم م بِا لظّٰلِمِیْنَ )

”(اے نبی)کہہ دو کہ اگرآخرت کا گھر صرف تمہارے لیے ہے اورکسی کے لیے نہیں تو آؤ اپنی سچائی کے ثبوت میں موت طلب کرو،لیکن اپنی کرتوتوں کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی موت نہیں مانگیں گے،اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتاہے”[i]  

        حضرت عبداللہ بن عباس  فرماتے ہیں کہ ان یہود یوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلمکی زبانی پیغام دیا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو مقابلہ میں آؤ، ہم تم مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہم میں سے جھوٹے کو ہلاک کردے ‘لیکن ساتھ ہی پیشین گوئی بھی کردی کہ یہ لوگ ہرگز اس پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ یہ لوگ مقابلہ پر نہ آئے اس لیے کہ وہ دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قرآن مجید کو سچا جانتے تھے اگر یہ لوگ اس اعلان کے تحت مقابلہ میں نکلتے تو سب کے سب ہلاک ہوجاتے ‘روئے زمین پر ایک بھی یہودی باقی نہ رہتا۔ایک مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ اگر یہودی مقابلہ پر آتے اورجھوٹے کے لیے موت طلب کرتے تو وہ لوٹ کر اپنے اہل و عیال اورمال ودولت کا نام ونشان بھی نہ پاتے۔  [ii]

سورة جمعہ میں بھی اسی طرح کی دعوت انہیں دی گئی ہے۔ آیت (قُلْ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ ھَادُوْا) آخر تک پڑھیے ان کا دعویٰ تھا کہ (نَحْنُ

اَبْنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِیَّآءُ ) ہم تو اللہ کی اولاد اوراس کے پیارے ہیں۔یہ کہاکرتے تھے (لَّنْ یَّدْ خُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی)جنت میں صرف یہودی اورنصاریٰ جائیں گے’اس لیے انہیں کہا گیا کہ آؤ اس کا فیصلہ اس طرح کرلیں کہ دونوں فریق میدان میں نکل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے جھوٹے کو ہلاک کر ڈالے لیکن چونکہ اس جماعت کو اپنے جھوٹ کاعلم تھا یہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اوران کا کذب سب پر کھل گیا۔ اسی طرح جب نجران کے نصرانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ‘بحث مباحثہ ہو چکا توا ن سے بھی یہی کہا گیا کہ (تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنآءَ کُمََََْ ) یعنی آؤ ہم تم دونوں اپنی اپنی اولادوں اوربیویوں کو لے کر نکلیں اوراللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ جھوٹوں پر اپنی لعنت فرمائے ،لیکن وہ آپس میں کہنے لگے کہ ہر گز اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ نہ کروورنہ فوراً برباد ہوجاؤ گے۔  [iii]

چنانچہ اللہ تعالیٰ کی قران مجید میں بیان کردہ مندرجہ بالا پیشین گوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت قبول کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔


[i] البقرہ ، 2:94-95

[ii] مسند احمد بحوالہ  تفسیر ابن کثیر ۔ جلداول ۔صفحہ 142

[iii] تفسیر ابن کثیر ۔ جلداول ۔صفحہ 142-143

 

پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

ٹیگز: ,

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹٹریک بیک کریں اپنی سائیٹ سے. آپ کرسکتے ہیں Comments Feed بذریعہ ار ایس ایس.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں...

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں

<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong> 

یہ ایک گریویٹار اینیبلڈ ویب سائیٹ ہے۔ اپنا عالمی سطح پرتسلیم شدہ اوتار حاصل کرنے کے لیے رجسٹر کریں گریوٹار.