فلکیات »

January 9, 2013 – 3:49 am | ترمیم

عذاب ِیوم کے دن کی طوالت پچاس ہزار سال ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

ستاروں کے چال چلن سے لوگ مستقبل کا حال بتاتے ہیں ۔ طرح طرح کے دل دہلانے والے انکشافات …

مزید پڑھیے »
ہم مسلمان کیسے ہوئے؟

کن سائنسی تحقیقات کے نتائج نے ہمیں اسلام کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا اور پھر ہم مسلمان ہو گئے

صحت وتندرستی

انسانی صحت کے متعلقہ انٹرنیٹ پٔر شائع ہونے والے مفید مضامین پڑھیے

سائنسی خبریں

سائنسی شعبہ میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات پر مشتمل مضامین پڑھیے

موسمیات

ہوا ، بادل ،پانی اور بارش کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اللہ کی قدرت ان میں کیسے جلوہ گر ہے .

تمہید و ابتدائیہ

قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے ، وغیرہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔

صفحہ اول » تمہید و ابتدائیہ

کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے

کاتب نے – August 26, 2011 – کو شائع کیا 35 تبصرے

کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے؟

 سائنس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی 'جاننا '' کے ہیں۔ پروفیسر کے لنگسردکے مطابق سائنس نظام فطرت کے علم کا نام ہے جو مشاہدہ، تجربہ اور عقل سے حاصل ہوتاہے۔ علم کے جس شعبے کو ہم سائنس کہتے ہیں اس کا دوسرا نام علم کائنا ت ہے جس میں انسان کا علم بھی شامل ہے۔سائنس دان کائنات کے مشاہدے سے کچھ نتائج اخذکرتاہے۔ ہر درست سائنسی نتیجے کو ہم مستقل علمی حقیقت یا قانون قدرت سمجھتے ہیں۔ مشاہدے اورتجربے سے دریافت ہونے والے علمی حقائق کو جب مرتب اور منظم کرلیا جاتاہے تو اسے ہم سائنس کہتے ہیں۔ [1]83540592_0d162e944a

قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ انسانوں کو دعوت دیتاہے کہ وہ آسمانوں ،زمین ،پہاڑوں ، ستاروں، پودوں ،بیجوں ،جانوروں ،رات اوردن کے ادل بدل ،تخلیق انسانی ،بارشوں اوربہت سی دیگر مخلوقات پر غوروفکر اور تحقیق کریں تاکہ وہ اپنے گردوپیش میں پھیلے ہوئے کمال ہنر مندی کے گوناگوں نمونے دیکھ کر اس احسن الخالقین کو پہچان سکیں جو اس ساری کائنات اور اس کے اندر موجود تمام اشیا ء کو عدم سے وجود میں لایا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قرآن

نیز فرمایا:

2

 ایک جگہ فرمایا:

4

امام ابن کثیر  ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

''بنی اسرائیل کے عابدوںمیں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدتِ عبادت پوری کرلی تھی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایاکرتاتھا اس پر نہ ہو اتو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا بیٹے تم نے اپنی اس عبادت  کے زمانہ میں کوئی گناہ کر لیاہو گا، اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر کسی گناہ کا پور اقصد کیا ہو گا۔ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غوروتدبر کے بغیر ہی ہٹا لی ہو۔ عابد نے کہا کہ ایساتو برابر ہوتارہا۔ فرمایا بس یہی سبب ہے۔[2]

اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی لوگوں کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور بڑی تاکید سے فرمایا کہ علم کا حصول ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان مبارک ہے۔

علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے[3]۔    نیز علم حاصل کرو اور دوسروں کو سکھاؤ۔ [4]

  قرآن مجید میں ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

5

یہاں ایک اہم واقعہ کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتاہے جس کے راوی علامہ عنایت اللہ مشرقی ہیں ۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ اس وقت پیش آیا جب وہ برطانیہ میں زیر تعلیم تھے ۔

'' 1909ء کا ذکر ہے ،اتوار کا دن تھا اورزور کی بارش ہورہی تھی ۔میں کسی کا م سے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس ( James Jeans )بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے ۔میں نے قریب ہو کر سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اورکہنے لگے : کیا چاہتے ہو؟میں نے کہا '' دوباتیں ،اوّل یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتہ بغل میں داب رکھا ہے '' ۔سر جیمز اپنی بد حواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا ۔ دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لیے جارہا ہے؟میر ے اس سوال پر جیمز لمحہ بھر کے لیے رک گئے اور پھر میر ی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ،'' آج شام میرے ساتھ چائے پیٔو''!

چناچہ میں شام کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچا ۔ٹھیک چار بجے لیڈی جیمزنے باہر آکر کہا : ''سر جیمز تمہارے منتظر ہیں''۔ اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی ،پروفیسر صاحب تصوّرات مین کھوئے ہوئے تھے ۔کہنے لگے ،''تمہارا سوال کیا تھا''؟اور میرے جواب کا انتظار کئے بغیراجرام آسمانی کی تخلیق ،ان کے حیرت انگیز نظام ،بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں ،ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی روابط اور طوفان ہائے نورپر وہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس کبریائی وجبروت پردہلنے لگا اور ان کی اپنی کیفیت تھی کہ سر بال سیدھے اُٹھے ہوئے تھے ۔آنکھوں سے حیرت وخشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں،اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ا ن کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی ۔فرمانے لگے ،''عنائت اللہ خاں، جب میں اللہ کے تخلیقی کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی اللہ کے جلا ل سے لرز نے لگتی ہے اورجب میں کلیسامیں اللہ کے سامنے سرنگوں ہوکر کہتا ہوں ''تو بہت بڑا ہے ''تو میری ہستی کا ہر ذرّہ میرا ہم نوا بن جاتاہے ،مجھے بے حد سکون…. …..اورخوشی نصیب ہوتی ہے ۔مجھے دوسروںکی نسبت عبادت میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے ،کہو عنائت اللہ خاں!تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں کیوں گرجے جاتاہوں ''؟

علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمز کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا ۔میں نے کہا ''جناب والا! میں آپ کی روح پرور تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی ایک آیت یاد آگئی ہے ،اگر اجازت ہو تو پیش کروں'' ؟فرمایا ''ضرور''! چناچہ میں نے یہ سورۃ فاطرکی درج زیل آیات پڑھیں:

3

یہ سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے:

کیا کہا؟اللہ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں؟حیرت انگیز ،بہت عجیب ۔یہ بات جو مجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ اورمشاہد ہ کے بعد معلوم ہوئی ،محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کو کس نے بتائی ؟کیا قرآن مجید میں واقعی یہ آیت موجود ہے ؟اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے ۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اَن پڑھ تھے،انہیں یہ عظیم حقیقت خود بخود معلوم نہ ہو سکتی تھی ،یقینا اللہ تعالیٰ نے انہیں بتائی تھی ۔بہت خوب،بہت عجیب! [5]

چنانچہ سائنس ہمیں اس کائنات اور دیگر موجودات کے مطالعے کا ایک طریقہ بتاتی ہے۔ اس سے ہمیں مخلوق کے وجود کی رعنائیوں اور خالق کی حکمت بالغہ کا شعور ملتاہے۔ لہٰذا اسلام سائنس کی حوصلہ افزائی کرتاہے کیونکہ ہم اس کے ذریعے تخلیقاتِ خداوندی کی لطافتوں اور نزاکتوں کا بہتر مطالعہ کرسکتے ہیں۔

 اسلام مطالعہ اورسائنس کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتاہے بلکہ اس امر کی بھی اجازت دیتاہے کہ اگرہم چاہیں تو اپنے تحقیقی کام کو نتیجہ خیزبنانے کے لیے دین کے بیان کردہ حقائق سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ اس سے ٹھوس نتائج برآمد ہونے کے ساتھ ساتھ منز ل بھی جلد قریب آجائے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دین وہ واحد ذریعہ ہے جو زندگی اورکائنات کے ظہورمیں آنے سے متعلق سوالات کا صحیح اور متعین جواب فراہم کرتاہے۔ اگر تحقیق صحیح بنیادوں پر استوار ہو تو وہ کائنات کی ابتداء ، مقصدزندگی اور نظام زندگی کے بارے میں مختصر ترین وقت میں کم سے کم قوت کو بروئے کار لا تے ہوئے بڑے حقائق تک پہنچا دے گی۔

آج سائنسی علم نے جو ترقی کی ہے اس نے انسان پر حیرت کے دروازے کھول دیے ہیں، جس چیز کے متعلق آج سے 50یا  100سال پہلے سوچنا بھی محال تھاوہ ممکن ہو چکی ہے۔ انسان زندگی کے ہر شعبہ میں سائنسی علم پر بھروسہ اوراس کو اپناتاچلاجا رہا ہے مگر سائنس  کاایک نقصان دہ پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ بعض مسلمان بھی دین کے معاملے میں سائنس کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام اور سائنس میں تضاد ہے'دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ کہ اسلام ایک قدیم مذہب ہے جو موجودہ  زمانے کی ضروریات کو پور ا نہیں کر سکتا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔۔مولانا مودودی بھی جدید سائنس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :

'' قدیم زمانے میں لوگوں کے لیے آسمان وزمین کے رتق وفتق اور پانی سے ہر زندہ چیز کے پیداکیے جانے اور تاروں کے ایک ایک فلک میں تیرنے کا مفہوم کچھ اور تھا ' موجودہ زمانے میں طبیعیاتPhysics)،حیاتیات (Biology)،اور علم ہیئت (Astronomy)  کی جدید معلومات نے ہمارے لیے ان کا مفہوم کچھ اور کر دیاہے اور نہیں کہہ سکتے کہ آگے چل کر انسان کو جو معلومات حاصل ہونی ہیں وہ ان الفاظ کے کن معانی پر روشنی ڈالیں گی''۔[6]

فزکس کے مشہور نوبل انعام یافتہ سائنس دان ''البرٹ آئن سٹائن '' کے بقول سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھاہے [7]۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سائنس کو اگر مذہب کی روشنی اور رہنمائی حاصل نہ ہوتو وہ صحیح طورپر آگے کی طرف  قدم نہیں بڑھا سکتی۔ ایسا نہ کرنے سے یقینی نتائج کے حصول میں نہ صرف بہت سا وقت ضائع ہو جائے گا بلکہ ا س سے بڑھ کر یہ امکان بھی غالب ہے کہ تحقیق بالکل بے نتیجہ اور ناقص رہے گی اورماضی گواہ ہے کہ اکثر ایسا ہی ہوتارہا ہے۔ مادہ پرست سائنس دانوں نے ماضی میں جو طریقہ اختیار کیا بالخصوص پچھلے 200سال میں، وہ جو مساعی بروئے کار لاتے رہے اس میں بہت سا وقت ضائع  ہوا۔ بہت سی تحقیق اکارت گئی او را س پر صرف ہونے والا لاکھوں کروڑوں ڈالرز کا سرمایہ ضائع ہو گیا۔ اس سے انسانیت کو کچھ بھی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ اس لیے کہ ان کی تحقیق کی بنیاد غلط راستوں پر استوار تھی۔یہی چیز مذہب اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کا باعث بنی اوراہل مذہب سائنس سے متنفرہوئے۔

اس سے یہ بات واضح طو رپر سمجھ لینی چاہیے کہ سائنس صرف اسی صورت میں قابل اعتما د نتائج حاصل کرسکتی ہے جب اس کی تحقیق وتفتیش کا مدعا ومقصد کائنات کے رازوں اور اشاروں کو سمجھنا ہو۔اگر اس نے اپنے وقت اور وسائل کو ضائع ہونے سے بچاناہے تو اسے صحیح ہدایت کی روشنی میں صحیح راستے کا انتخاب کرناہو گا۔

یہ تصور کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے مخالف ہیں ،یہودیت اورعیسائیت کے زیر اثر ممالک میں بھی اسی طرح پھیلا ہواہے جیساکہ اسلامی دنیامیں ہے ،خصوصیت سے سائنسی حلقوں میں اگر اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی جائے تو طویل مباحث کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا۔مذہب اور سائنس کے مابین تعلق کسی ایک جگہ یا ایک وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہا ہے۔ یہ ایک امر واقعہ  ہے کہ کسی توحید پرست مذہب میں کوئی ایسی تحریر نہیں ہے جو سائنس کو ردّ کرتی ہو۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں چرچ کے حکم کے مطابق سائنسی علوم کا حصول اور اس کی جستجو گناہ قرار پائی تھی۔ پادریوں نے عہد نامہ قدیم سے ایسی شہادتیں حاصل کیں جن میں لکھا ہوا تھا کہ وہ ممنوعہ درخت جس سے حضرت آدم  نے پھل کھایا تھا وہ شجر علم تھا، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور اپنی رحمت سے محروم کردیا۔ سائنسی علوم چرچ کے حکم سے مسترد کر دیے گئے اور ان کا حصو ل جرم قرار پایا۔زندہ جلا دئیے جانے کے ڈر سے بہت سے سائنس دان جلا وطنی پر مجبور ہوگئے یہاں تک کہ انہیں توبہ کرنا،اپنے رویہ کو تبدیل کرنا اور معافی کا خواستگار ہوناپڑا۔مشہور سائنس دان گلیلیو پر اس لیے مقدمہ چلا کہ اس نے اس نظریہ کومان لیا تھا جو زمین کی گردش کے بارے میں کوپر نیکس نے پیش کیاتھا۔ بائیبل کی ایک غلط تاویل کے نتیجہ میں گلیلیو کو سزا دی گئی۔  [8]

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام کی انتہائی ترقی کے زمانہ میں جو آٹھویں اور بارہویں صدی عیسوی کے درمیان کازمانہ ہے یعنی وہ زمانہ جب سائنسی ترقی پر عیسائی دنیا میں پابندیاں عائد تھیں 'اسلامی جامعات میں مطالعہ اور تحقیقات کا کام بڑے پیمانہ پر جاری تھا۔یہی وہ جامعا ت تھیں جنہوں نے عظیم مسلمان سائنس دانوں کو جنم دیا۔اس دور کے مسلم سائنس دانوں نے فلکیات ،ریاضی ،علم ہندسہ (جیومیڑی)اور طب وغیرہ کے شعبوں میں قابل قدر کارنامے انجام دیے۔ مسلمانوں نے یورپ میں بھی سائنسی علوم کی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا اوراپنے ہاں بھی سائنس دانوں کی معقول تعداد پیداکی۔ اندلس(سپین)میں سائنسی علوم نے اتنی ترقی کی کہ اس ملک کو سائنسی ترقی اور انقلابی دریافتوں کی کٹھالی کہا جانے لگا 'بالخصوص میڈیسن کے شعبے میں اس نے بے پناہ شہرت حاصل کرلی۔

 مسلمان طبیبوں نے کسی ایک شعبے میں تخصیص(Specialization)پر زور دینے کی بجائے متعدد شعبوں بشمول علم دوا سازی'علم جراحت 'علم امراض چشم 'علم امراض نسواں 'علم عضویات 'علم جرثومیات اور علم حفظان صحت میں مہارت تامہ حاصل کرلی۔ اندلس کے حکیم ابن جلجول(992ء )کوجڑی بوٹیوں اورطبی ادویہ اور تاریخِ طب پر تصانیف کے باعث عالمی شہرت ملی۔اس دور کا ایک اورممتاز طبیب جعفرابن الجذر(1009ء )جوتیونس کارہنے والا تھا'اس نے خصوصی علاماتِ امراض پر 'تیس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔عبداللطیف البغدادی (1231۔1162ء ) کو علم تشریح الاعضاء (ANATOMY)پر دسترس کی وجہ سے شہرت ملی۔ اس نے انسانی ہڈیوں کے بارے میں مروّجہ کتب میں پائی گئی غلطیوں کی بھی اصلاح کی۔ یہ غلطیا ں زیادہ تر جبڑے اور چھاتی کی ہڈیوں کے متعلق تھیں۔ بغدادی کی کتاب ''الافادہ والاعتبار'' 1788ء میں دوبارہ زیور طباعت سے مزین ہوئی اور اس کے لاطینی 'جرمن اور فرانسیسی زبانوں میں تراجم کرائے گئے۔اس کی کتاب''مقالات فی الحواس'' پانچوں حواس کی کارکردگی کے بارے میں تھی۔

مسلم ماہرین تشریح الاعضاء نے انسانی کھوپڑی میں موجود ہڈیوں کو بالکل صحیح شمار کیا اور کان میںتین چھوٹی چھوٹی ہڈیوں (میلس،انکس اور سٹیپز)کی موجودگی کی نشاندہی کی۔تشریح الاعضا کے شعبے میں تحقیق کرنے والے مسلمان سائنس دانوں میں سے ابن سینا (1037۔ 980ء )کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی جسے مغرب میں ''ایویسینا'' (AVICENNA)کہا جاتا ہے۔اسے ابتدائی عمر میں ہی ادب 'ریاضی' علم ہندسہ (جیومیٹری) طبیعیات ' فلسفہ اور منطق میں شہرت مل گئی تھی۔ نہ صرف مشرق بلکہ مغرب میں بھی ان علوم میں اس کی شہرت پہنچ گئی تھی۔ اس کی تصنیف ''القانون فی الطب''کو خصوصی شہرت ملی۔ (اسے مغرب میں کینن''CANON''کہا جاتا ہے)۔ یہ عربی میں لکھی گئی تھی۔ 12ویں صدی میں اس کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا اور 17ویں صدی تک یورپ کے سکولوں میں بطور نصابی کتاب پڑھائی جاتی رہی۔ یہ امراض اور دواؤں کے بارے میں ایک جامع تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ اس نے 100سے زیادہ کتابیں فلسفے اورنیچرل سائنسزپر لکھیں۔ اس کے علم کا بیشتر حصہ بشمول ''القانون فی الطب ''طبی معلومات پر مشتمل ہے جسے آج بھی ایک مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔

زکریا قزوینی نے دل اور دماغ کے بارے میں ان گمراہ کن نظریات کو غلط ثابت کردیا جو ارسطو کے زمانے سے مروّج چلے آرہے تھے۔چنانچہ انہوں نے جسم کے ان دو اہم ترین اعضا کے بارے میں ایسے ٹھوس حقا ئق بیان کردئیے جو ان کے بارے میں آج کی معلومات سے نہایت قریب ہیں۔

 زکریا قزوینی 'حمداللہ المستوفی القزوینی(1350۔1281ء)اور ابن النفیس نے جدید طب کی بنیاد رکھی۔ ان سائنس دانوں نے 13ویں اور14ویں صدیوں میں دل اور پھیپھڑوں کے درمیان گہرے تعلق کی نشاندہی کر دی تھی۔ وہ یوں کہ ''شریانیں آکسیجن ملاخون لے جاتی ہیں اور وریدیں بغیر آکسیجن خون کو لے جاتی ہیں '' اوریہ کہ ''خون میں آکسیجن کی آمیزش کا عمل پھیپھڑوں کے اندر انجام پاتاہے''اور یہ بھی کہ ''دل کی طرف واپس آنے والا آکسیجن ملا خون شریان کبیر(AORTA)کے ذریعہ دماغ اور دیگر اعضائے بدن کو پہنچتا ہے ''۔

علی بن عیسیٰ( م 1038ء)نے امراض چشم پر تین جلدوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کی پہلی جلد میں آنکھ کی اندرونی ساخت کی مکمل تشریح اور وضاحت کی گئی ہے۔ان تینوں جلدوں کا لاطینی اور جرمن زبانوں میں ترجمہ کردیاگیاہے۔محمد بن زکریا الرازی (925۔865 )برہان الدین نفیس (م438ء) اسماعیل جرجانی( م136ء) قطب الدین الشیرازی(1310۔ 1236ء)منصور ابن محمداورابوالقاسم الزہراوی  (ALBUCASIS ) مسلمان سائنس دانوں میں سے وہ اہم شخصیات ہیں جنہیں طب اور تشریح الاعضا کے علوم میں دسترس کی وجہ سے شہرت ملی۔

مسلم سائنس دانوں نے طب اور تشریح الاعضا کے علاوہ بھی کئی شعبوں میں شاندار کارنامے انجام دئیے۔مثال کے طور پر البیرونی کو معلوم تھا کہ زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے۔ یہ گلیلیوسے کوئی 600سال قبل کا زمانہ تھا۔اسی طر ح اس نے نیوٹن سے 700سال پہلے محور ِزمین کی پیمائش کرلی تھی۔ علی کوشوع ((ALI KUSHCHUپندرہویں صدی کا پہلا سائنس دان تھاجس نے چاند کا نقشہ بنایااور چاند کے ایک خطے کو اسی کے نام سے منسوب کر دیاگیاہے۔9ویں صدی کے ریاضی دان ثابت بن قرہ (THEBIT)نے نیوٹن سے کئی صدیاں پہلے احصائے تفرقی (DIFFERENTIAL CALCULUS)ایجاد کرلی تھی۔ بطانی 10ویں صدی کا سائنس دان تھاجو علم مثلثات(TIRGNOMETERY)کو ترقی دینے والاپہلاشخص تھا۔ابو الوفا محمد البزنجانی نے احصائے تفرقی(حساب کتاب کا ایک خاص طریقہ) میں پہلی بار ''مماس ومماس التمام  [9] ''(TANGENT/COTANGENT)اور ''خط قاطع و قاطع ِالتمام [10]  SECANT-COSEANT)  )متعارف کرائے۔

الخوارزمی نے 9ویں صدی میں الجبرا پر پہلی کتاب لکھی۔ المغربی نے فرانسیسی ریاضی دان پاسکل کے نام سے مشہور مساوات''مثلث پاسکل''اس سے 600سال پہلے ایجاد کرلی تھی۔ ابن الہیثم  (ALHAZEN)جو 11ویں صدی میں گزراہے علم بصریات کا ماہر تھا۔راجر بیکن اور کیپلر نے اس کے کام سے بہت استفادہ کیا جب کہ گلیلیونے اپنی دوربین انہی کے حوالے سے بنائی۔

الکندی(ALKINDUS)نے علاقی طبیعیات اور نظریہ ٔ اضافت آئن سٹائن سے 1100سال پہلے متعارف کرا دیاتھا۔شمس الدین نے پاسچر سے 400سال پہلے جراثیم دریافت کرلیے تھے۔ علی ابن العباس نے جو10ویں صدی میں گزرا تھا کینسر کی پہلی سرجری کی تھی۔ ابن الجسر نے جذام کے اسباب معلوم کیے اور اس کے علاج کے طریقے بھی دریافت کیے۔یہا ں چندایک ہی مسلمان سائنس دانوں کا ذکر کیا جا سکا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے سائنس کے مختلف شعبوں میں اتنے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ انہیں بجاطور پر سائنس کے بانی کہا جاسکتاہے۔

مغرب میں سائنسی انقلاب کا زمانہ

جب ہم مغربی تہذیب پر نگاہ ڈالتے ہیں 'تو پتہ چلتاہے کہ جدید سائنس خداپر ایمان کے ساتھ آئی تھی۔ 17ویں صدی جسے ہم ''سائنسی انقلاب کا زمانہ ''کہتے ہیں اس میں خدا پر ایمان رکھنے والے سائنس دانوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ان کا اولین مقصد خدا کی پیدا کردہ کائنات اور اس کی فطرت دریافت کرنا تھا۔ مختلف ممالک مثلاََبرطانیہ اور فرانس وغیرہ میں قائم سائنسی اداروں نے کائنات کے پوشیدہ اسرار دریافت کرکے اس کے خالق کے قریب تر پہنچنے کے عزم کا اعلان کر رکھا تھا۔یہ رجحان 18ویں صدی میں بھی برقرار رہا۔شاندار سائنسی کارنامے انجام دینے والے بعض سائنس دانوں کو قرب الٰہی کے حصول کے اعلانیہ عزم کے حوالے سے پہچانا جاتاتھا۔نیوٹن، کیپلر ،کوپرنیکس ،بیکن ،گلیلیو،پاسکل ،بوائل ،پالے اور کووئیر اسی قبیل کے سائنس دانوں میں سے تھے۔ان سائنس دانوں نے ایمان باللہ کے جذبے سے سائنسی تحقیق وجستجو کی ،جس کی تحریک انہیں جذبہ ایمانی سے حاصل ہوتی تھی۔

اس کا ثبوت ولیم پالے کی ''فطری علم معرفت ''کے نام سے 1802ء میں چھپنے والی کتاب تھی جس کا اہتمام ''برج واٹر ٹریٹیزز''نے کیا تھا  اس کتاب کا پورا نام (NATURAL THEOLOGY:EVIDENCES OF THE EXISTENCE AND ATTRIBUTES OF THE DEITY ,COLLECTED FROM APPEARANCES OF NATURE   تھا)۔اس کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ بندہ مظاہرِفطرت پر غور وفکر کرکے ان کے خالق کو پہچان سکتا ہے۔پالے نے زندہ اجسام کے اعضاء میں ہم آہنگی کوبہترین انداز میں قلم بند کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاہے کہ ایک خالق کی موجودگی کا اقرار کیے بغیر اس طرح کی غیرمعمولی ڈیزائننگ کا پایا جانا ناممکن ہے۔ بالفاظ دیگر اعضاء کی یہ غیر معمولی ڈیزائننگ اور ان کے افعال ،ایک خالق ومدبرکے وجود کا ناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہیں۔

پالے کے تحقیقی کام کو بطور ماڈل سامنے رکھ کر ''رائل سوسائٹی آف لندن'' کے نامزد ارکان کے نام ایک خط لکھا گیا جس میں انہیں ذیل کے موضوعات پر ایک ہزار کتابیں لکھنے اور چھپوانے کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ''خداکی قدرت وحکمت اور اس کی صفاتِ خیرجن کا اظہار اس کی تخلیقات سے ہوتا ہے اس پر قابل فہم دلائل و براہین یکجا کرنا۔ مثلاََخدا کی مخلوقات میں پایا جانے والاتنوع' نباتات اور معدنیات کی دنیا 'زندہ اجسا م کا نظامِ ہاضمہ اور پھر اس خوراک کو اپنا جزوبدن بنالینا' انسان کے ہاتھ کی ساخت اور اس کی دیگر صلاحیتوں کی وجہ سے تخلیقات ِخداوندی کے دلائل سامنے لانا'اس کے علاوہ آرٹس اور سائنس کے شعبوں میںقدیم اورجدید دریافتوں اور پورے ماڈرن لٹریچر کا ان حوالوں سے جائزہ لینا ''۔

وجود خداوندی کے نشانات کابہ نظرِغائرمطالعہ کرنے کی اس دعوت کا بہت سے سائنس دانوں نے جواب دیا۔ اس طرح بڑی گراں قدرتصانیف وجودمیں آئیں۔یہ سلسلہ ٔمطبوعات، مذہب اورسائنس کے اتصال و ہم آہنگی کی صرف ایک مثال ہے۔ اس سے پہلے اور بعد کے بے شمار سائنسی مطالعات اور تحقیقات کے پیچھے یہ جذبہ کارفرما تھا کہ خدا کی پیدا کردہ کائنات کو سمجھا جائے اور اس کے ذریعہ اس کے خالق کی لامحدود قوتوں کا ادراک کیا جائے۔

مذہب اور سائنس میں تصادم کا دور

سائنس دان برادری کا اس ابتدائی راستے سے انحراف'19ویں صدی کے مغربی کلچرکے مادہ پرستانہ فلسفے کے غلبے کا نتیجہ تھا۔یہ صورت حال بعض سماجی اور سیاسی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوئی جس کا بہت بڑا سبب ڈارون کا نظریہ ٔ ارتقا تھا۔یہ نظریہ ابتدائی نقطہ نظر کے بالکل منافی تھا اورنئی صورت ٔحال یہ بنی کہ مذہب اور سائنس کے لیے حصول علم کے دو ایسے مآخذ سامنے آگئے جو ایک دوسرے  سے متصادم تھے۔اس صورت حال کے بارے میں برطانیہ کے تین محققین مائیکل بیجینٹ (MICHAEL BAIGENT) )رچرڈ لیRICHARD LEIGH))اور ہنری لنکن(HENRY LINCOLN)کا یہ تبصرہ تھا:

''ڈارون سے ڈیڑھ صدی پہلے آئزک نیوٹن کے لیے سائنس مذہب سے الگ نہیں تھی۔ بلکہ اس سے بالکل برعکس یہ مذہب کا ایک پہلو تھی اور بالآخر اس کے تابع تھی لیکن ڈارون کے زمانے کی سائنس نے خود کو مذہب سے نہ صرف الگ کر لیا بلکہ اس کی حریف بن گئی۔ اس طرح مذہب او ر سا ئنس کے درمیان ہم آہنگی ختم ہو گئی اور وہ دو مخالف سمتوں میں چلنے لگے جس کی وجہ سے انسانیت مجبور ہو گئی کہ وہ دو میں سے کسی ایک کو منتخب کرے''۔  [11]

سائنس کے ثابت کردہ حقائق کو اپنے مدمقابل پا کر مادیت پرست عناصر اپنے مخصوص ہتھکنڈوںپر اتر آئے۔ سائنس دان کو اپنے شعبے میں ترقی پانے'ایم ڈی یا پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے یا سائنسی مجلے میں اپنے مضامین چھپوانے کے لیے چند شرائط پوری کرنی پڑتی تھیں۔ان میں ایک شرط یہ تھی کہ وہ نظریۂ ارتقا کو غیر مشروط طو رپر قبول کرتا ہو۔ اس لیے بعض سائنس دان ڈارون کے مفروضوں کا پرچم اٹھانے پر مجبور ہوگئے حالانکہ دلی طور پر وہ ان کو مسترد کرتے تھے۔تخلیق خداوندی کی نشانیوں کے انکا رپران کی طبیعت مائل نہیںتھی۔امریکی مجلہ ''سائنٹی فک امریکن''کے ستمبر 1999ء کے شمارے میں ایک مضمون''امریکہ کے سائنس دان اورمذہب '' کے عنوان سے شائع ہوا۔ مضمون نگار روڈنی سٹارک (RODNEY STARK)نے جو یونیورسٹی آف واشنگٹن میں سوشیالوجی پڑھاتے ہیں'سائنس دانوں پر ڈالے جانے والے دباؤ کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ''سائنس سے متعلقہ افراد کی مارکیٹنگ کا سلسلہ 200سال سے جاری ہے ۔ سائنس دان کہلانے کے لیے تمہیں اپنا منہ بند رکھنا اور مذہب کی جکڑ بندیوں سے خو د کو آزاد رکھنا ہو گا۔ریسرچ یونیورسٹیوں میں مذہبی لوگ اپنے منہ بند رکھتے ہیں اور غیر مذہبی لوگ الگ تھلگ رہتے ہیں۔انہیں خصوصی سلوک کا مستحق گردانا جاتاہے اور انہیں اعلی ٰ مناصب پر پہنچنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔  [12]

موجودہ حالات اورسائنس دان

 آج حالا ت بدل چکے ہیں۔ مذہب اور سائنس کے درمیان مصنوعی فرق کوسائنسی دریافتوں نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔مذہب کا دعویٰ ہے کہ کائنات کو عدم سے وجود میں لایا گیا ہے او رسائنس نے اس حقیقت کے کئی ثبوت دریافت کر لیے ہیں۔ مذہب یہ تعلیم دیتاہے کہ زندہ اشیا ء کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے اور سائنس نے زندہ اجسام کے ڈیزائن میں اس حقیقت کے شواہد دریافت کرلیے ہیں۔ مادہ پرست لوگ جو سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کا دشمن قرار دینا چاہتے ہیں نہ صرف کیتھولک کلیسا کی بے جا سخت گیری کو بطور مثال پیش کرتے ہیں بلکہ تورات یا انجیل کے بعض حصوں کا حوالہ دے کر یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ یہ تعلیمات کس قدر سائنسی دریافتوں سے متصادم ہیں۔ تاہم ایک سچائی جسے وہ نظر انداز کرتے ہیں یا اس سے ناواقفیت کا بہانہ کرتے ہیں، یہ ہے کہ انجیل اور تورات کے متن تحریف شدہ ہیں۔ ان دونوں آسمانی کتابوں میں انسانوں نے بہت سے توہمات اپنی طرف سے شامل کردیے ہیں۔اس لیے ان کتابوں کو مذہب کے بنیادی مآخذ کے طور پر پیش کرنا غلط ہو گا۔ 

ان کے برعکس قرآن پورے کا پورا وحی ٔالٰہی پر مشتمل ہے 'اس میں رَتی بھر تحریف نہیں ہوئی اور نہ ہی ایک لفظ کی کوئی کمی بیشی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کوئی تضاد یا کوئی غلطی نہیں ۔ اس میں بیا ن کردہ حقائق سائنسی دریافتوں سے بے حد مطابقت رکھتے ہیں۔مزید برآں متعدد سائنسی حقیقتیں جو آج منظر عام پر آ سکیں ہیں، قرآن نے 1400سال پہلے ان کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ قرآن کا ایک اہم معجزہ ہے جو اس کے کلام اللہ ہونے کے متعدد قطعی شواہد میں سے ایک ہے۔ [13]

حوالاجات :۔


[1]سائنسی انکشافات قران وحدیث کی روشنی میں ۔صفحہ33

[2]تفسیرابن کثیر ،جلد سوم ، صفحہ 372

[3](ابن ماجہ 224 /ترمذی 218)

[4] (ترمذی 279)

[5] (بحوالہ الشمس والقمر بحسبان : ص 37-38)

[6]تفہیم القرآن ،جلد سوم ،سورةالانبیائ، حاشیہ 35

The Quran and Modern Science by Dr. Zakir Naik, Page: 11[7]

[8]بائیبل،قرآن اور سائنس ازڈاکٹرمورس بوکائیے ،صفحہ20-21

[9]مماس(Tangent)دائرے کو ایک نقطے پر چھونے والا خط۔ اور مماس التمام(Cotangent)کسی قوس یا  زاوئیے کا مخصوص جزو۔(Gem Advanced Paractial Dictionary)

[10]خط قاطع(Secant)'دائرے کا نصف قطرجو قاطع التمام ہو ۔(Gem Advanced Paractial Dictionary)

THE MESSIANIC LEGACY,-GEORGI BOOKS ,LONDON :1991 ,p.177-178[11]

[12]EDWARD J. LARSON VE LARRY WITHAM, Scientists and Religion in America, SCIENETIFIC AMERICAN, SEP.1999, p. 81

[13]بحوالہ قرآن رہنمائے سائنس صفحہ87-99

پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

ٹیگز: ,

تبصروں کی تعداد: 35. »

  • nazo malik says:

    OK, IT IS NICE ARTICLE. PLEASE KEEP IT UP. THANKS

  • ملک جاوید says:

    آپکا یہ لمبا مضمون نہ تو میں پڑھا ہے اور نہ ہی ارادہ ہے کیونکہ میرے خیال میں سائنس اور مذہب کو مکس نہیں کرنا چاہیے، یہ دونوں الگ الگ فیلڈ ہیں۔

    مذہب کو سائنس کے معیار سے ناپا یا تولا نہیں جا سکتا کیونکہ اسمیں کسی چیز پر بغیر ثبوت کے یقین نہیں کیا جاتا جبکہ مذہب میں جو کچھ مذہبی رہنما یا مقدس کتابیں بتاتے ہیں اسپر بغیر ثبوت طلب کیے یقن کیا جاتا ہے۔
    سائنس میں کتنے مولویوں یا پادریوں نے نوبل پرائز جیتے ہیں۔
    مجھے تو سائنس کی نمایاں ریسرچ میں کہیں مولوی نظر نہیں آتے اگر آپ کو آتے ہیں تو بتا دیں؟
    چونکہ سائنس ایک الگ فیلڈ ہے اسلیے مولوی اس سے دور ہی رہتے ہیں یا رکھے جاتے ہیں اور بہتر بھی یہی ہے کیونکہ مذہب سائنس سے الگ رہ کر ہی زندہ رہ سکتا ہے۔

    سائنس کو مذہب میں لایا جائے تو مذہب ختم ہوسکتا ہے اور اسی طرح اگر مذہب کو سائنس میں لایا جائے تو یہ پھر سائنس نہیں رہتی۔

  • (محترم قارئین کرام اس مضمون پر ایک فورم میں کافی بحث ہوئی تھی جس میں کئی لوگوں نے حصہ لیا تھا ۔ اس کومیں یہاں مختصراً پیش کررہا ہوں تاکہ اگر کسی کے ذہن کے میں کوئی الجھن ہو تو وہ دور ہو سکے )
    میرے بھائی یہ دو الگ الگ فیلڈ نہیں ہیں
    مذہب ایک مکمل ضابطہ حیات ہوتاہے۔ زندگی کے دیگر شعبے اس ضابطے کے تحت ہوتے ہیں۔
    علم کا حصول بھی مذہب کی تعلیمات میں سے ہے۔۔ اور سائنس بھی ایک علم ہے اس لئے بطور علم اس کا مذہب سے متضاد ہونا خلاف عقل ہے۔
    لیکن مذہب میں ہر چیز کی حدود و قیود ہیں ان سے تجاوز کی ممانعت ہے۔۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان میں ان سے آگے جانے کی اہلیت نہیں بلکہ باوجود اہلیت و صلاحیت کے روک دیا جاتا ہے تا کہ پتہ چلے کون رب کے حکم پر سر تسلیم خم کر دیتا ہے اور کون سرکشی کرتے ہوئے حدود کو پھلانگتا ہے۔
    سائنس مذہب کے خلاف کوئی نیا نظریہ حیات نہیں ہے جو دیگر مذاہب کی طرح ایک دوسرے سے متضاد ہو ۔
    البتہ جن سائنسدانوں نے سائنس کی بنیاد پر مذہب یا خدا کا انکار کیا وہ ایک الگ بحث ہے۔
    تاہم ایک نئے فلسفے سائنٹالوجی Scientology جو کہ ایک مذہب کی صورت ابھرا ہے وہ قابل مطالعہ ہے اور اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    مولویوں کی قید والی بات سمجھ نہیں آئی
    اسلام میں کوئی پاپائیت نہیں‌کہ کسی جگہ مولویت کا وجود ہی اس کے مذہبی یا اسلامی ہونے کی دلیل ہو۔
    باقی آپ کا یہ کہنا کہ

    سائنس کو مذہب میں لایا جائے تو مذہب ختم ہوسکتا ہے اور اسی طرح اگر مذہب کو سائنس میں لایا جائے تو یہ پھر سائنس نہیں رہتی۔

    ““ ہو سکتا ہے”” ۔۔ یعنی آپ خود بھی اس بات پر یقین نہیں ہے۔۔۔
    یہ ایک مفروضہ ہے جس کا تائید حقیقت نہیں کرتی۔
    اور ““لایا جائے”” سے کیا مراد ۔۔۔ یہ کوئی خارجی چیز نہیں ہے میرے بھائی جو اس کو مذہب میں لایا جائے گا۔
    اسے آپ بطور مذہب یا نظریہ حیات نہ لیں بلکہ اسے بطور علم ہی لیں جو کہ اس کی حقیقت ہے۔ کوئی اشکال نہیں رہے گا انشاء اللہ
    ہر مسلمان سائنس کا علم حاصل کر سکتا ہے اور مسلمان کرتے رہے ہیں ظہور اسلام سے لے کر آج تک۔
    اور مسلمانوں کا اس کو بطور علم اپنانا اور کسی اہل علم کا اس کے خلاف کلام نہ کرنا بذات خود کافی دلیل ہے اس بات کی کہ یہ کوئی شجر ممنوعہ یا دین سے متضاد چیز نہیں۔
    تاہم اگر آپ میرا مضمون پڑھ لیتے تو شاید آپ کواس طرح‌کے سوالات نہ کرنا پڑتے۔ چونکہ آپ سائنسدانوں کی زبان پرجلد ایمان لاتے ہیں لہذا ایک معروف سائنسدان ”البرٹ آئن سٹائن ” کی سنیے ۔ا ن کے بقول سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھاہے ۔ محترم مذہب تو ایک مسلمان سائنسدان کو فضولیات سے ہٹا کر منزل مقصود تک بہت جلد پہنچا سکتا ہے ۔آپ کی نظر صرف مغربی سائنسی اصولوں‌تک ہی کیوں‌ محدود ہے۔ ؟
    علاوہ ازیں آپ کا یہ کہنا کہ

    سائنس میں کتنے مولویوں یا پادریوں نے نوبل پرائز جیتے ہیں۔

    یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ باقی آپ کا یہ کہنا کہ
    سائنس مذہب سے الگ ہے !
    کیا دلائل دے سکتے ہیں آپ ؟

  • ملک جاوید says:

    سائنس میں خدا کی ہستی کو تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ اس کیلیے سائنسی معیار پر پورا اترنے والا ابھی تک کوئی ثبوت موجود نہیں ہے (بحیثت مسلمان میرا اسپر یقین نہیں) ۔ مذہب /اسلام میں خدا کی ہستی کو بلا کسی شک شبہ کے ماننا ایک بنیادی یقین ہے۔
    ایک فیلڈ میں خدا کو نہیں مانا جاتا اور دوسرے میں مانا جاتا ہے تو کیا یہ دونوں الگ الگ فیلڈ نہیں ہیں؟
    آپ مجھے بتائیں کہ اسلام کے مطابق زمین سورج کے اردگرد گھومتی ہے یا سورج اسکے ارد گرد؟
    پاکستان میں کئی سیاستدان اور مذہبی گروپوں کے لیڈارن بار بار یہ کہتے ہیں کہ اسلام اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں۔
    پاکستان میں تو سائنس اور اسلام کے درمیان ابھی تک کلیش سامنے آیا ہی نہیں۔ آپ نے اگر اس قسم کے کلیش اور اسکےنتائیج دیکھنے ہیں تو مغربی ممالک میں دیکھیں جہاں ان دونوں فیلڈز کے درمیان دشمنی اس دن شروع ہوئی تھی جب گیلیلیو نے اپنی دوربین اٹھاکر اسکا رخ آسمان کی طرف کیا تھا۔
    کئی سو سال کی اس دشمنی میں مغربی ممالک کے اندر اب اس دور میں سائنس نے مذہب پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
    پاکستان میں جب سائنس اور اسلام کے درمیان کلیش سامنے آیا تو تب پتہ چلے گا کہ ان دونوں میں تضاد ہے یا نہیں!

  •  

    محترم سب سائنسدان ایسا نہیں‌ سوچتے ۔ آپ کا یہ کہنا غلط ہے۔میں‌اس پربھی ایک مضمون تشکیل دےچکا ہوں۔ کہ کئی بڑے سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ اسی سائنس کی وجہ سے ہم خالق کو پہچان سکیں‌ ہیں۔اس کا لنک یہ ہے۔

    http://quraniscience.com/what-is-the-opinion-of-scientists-about-religion/
    باقی یہ آپ نے بڑا فضول سوال کیا ہے کہ کون کس کے گرد گھومتا ہے؟ محترم قرآن نہ تو سائنس کی کتاب ہے اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتانے کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی اسلامی ضرورت تھی۔ ہاں‌قرآن یہ ضرور بتاتا ہے کہ کل فی فلک یسبحون۔ کائنات میں‌ہرچیز اپنے مدار میں‌گھوم رہی ہے۔ اور اس میں‌سورج اور زمین سب شامل ہیں۔ جبکہ سائنسدانوں میں‌یہ اختلاف کئی ہزار سال سے چل رہا تھا ۔کبھی کہا گیا کہ زمین ساکن ہے اور سورج گھوم رہا ہے اور کبھی الٹ۔اس کے متعلق بھی آپ اس پوسٹ کو پڑھ سکتے ہیں ۔

    http://quraniscience.com/the-sun-is-not-stationary/

    مغرب میں ہاں ایسا ضرور ہوا ہے۔۔۔۔ كيوں کہ وہاں سائنس كے مقابلے ميں جو مذہب تھا وه اپنی اصلی روح كھو چكا تھا اور تحريفات در تحريفات كے نتيجہ ميں اس قابل نہ رہا كہ وه سائنس كا مقابلہ كر سكے۔۔۔ اس لئے سائنس اور مذہب پر بات كرتے وقت یہ نقطہ ہميشہ ذہن ميں رہنا چاہیے۔۔۔ كہ سائنس كا مقابلہ  آپ كس مذ ہب سے كروا رہے ہیں ۔۔۔ اور دلائل اور علمی دنيا ميں اس مذ ہب كا مقام كتنا ہے۔۔۔۔۔ اس لئے سائنس اور عيسائيت يا يہوديت كے معركہ ميں ہونے والے نتائج جو بھی نكلے ہوں۔۔۔۔ ان كی توقع آپ سائنس اور اسلام كے تقابل ميں نہ كريں۔۔۔۔۔ اور نہ ہی  مولوی كا تقابل پادری سے كريں۔۔۔۔
    آپ جو يہ فرما رهے ہيں۔ كہ

    اقتباس:

    پاکستان میں جب سائنس اور اسلام کے درمیان کلیش سامنے آیا تو تب پتہ چلے گا کہ ان دونوں میں تضاد ہے یا نہیں

    ايسا كبھی نہيں ہو سكتا۔۔۔۔۔بشرطيكہ اسلام كو اس كي حقيقي تعليمات كے مطابق سمجھا جاتا رہے۔۔۔۔ ہاں اگر امريكي ايما پر یہاں صوفی ازم اور روشن خيالی كے نام پر جس اسلام كوعام كرنے كی سازش كی جارہی  ہے۔۔۔ كل اگر اس كا تقابل سائنس كے ساتھ كيا جائے۔۔۔۔۔ تو كوئی بھی فرد اپنے مطلوبہ نتائج اخذ كر سكتا ہے۔۔۔۔

    محترم بائبل اور سائنس میں‌تو تضاد ہے اور ہوسکتا ہے جبکہ قرآن اور ٹھوس سائنسی حقائق میں‌ تضاد کبھی نہیں‌ ہوسکتا ۔ اس لیے کہ قرآن میں‌ تخریف نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے جبکہ بائبل تحریف شد ہ ہے۔۔ سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد سینٹ بولس یا سینٹ پال جو کہ یہودی النسل تھا اور عیسی علیہ السلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھا اس نے عیسائیت قبول کی اور ایسا مقام حاصل کیا کہ سفید و سیاہ کا مالک ہو گیا۔۔ موجودہ بائبل میں اس کے خطوط بھی کتاب مقدس کا حصہ ہیں۔
    اس نے عیسائیت کے ساتھ جو حشر کیا اس سے عیسائیت اپنی اصلیت مکمل طور پر کھو گئی۔ اور پھر اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کلیسا نے ہر چیز پر مکمل قبضہ کر لیا اور ہر قسم کے علوم پر مکمل پابندی تھی۔۔ کلیسا کی مرضی کے خلاف جس نے جو کہا وہ غلط اور کہنے والا واجب القتل گردانا گیا۔ لوگوں کو سر عام جلایا گیا۔۔
    المختصر وہ مذہب کی تعلیمات نہیں تھیں جنہوں نے سائنس کی مخالفت کی بلکہ کلیسا اور اصحاب کلیسا کی اپنی کارستانی تھی۔

  • ملک جاوید says:

    کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ جب گیلیلیو نے اپنی دوربین اٹھاکر اسکا رخ آسمان کی طرف کیا اور اسکے بعد جو سائنسی حقائق بیان کیے انکی وجہ سے Catholic Church کی Inquisition نے آخر کار انہیں عمر قید کی سزا کیوں دی تھی؟
    گیلیلیو اور Catholic Church کے درمیان جھگڑا درحقیقت مذہب اور سائنس کے درمیان کلیش (clash ) کا آغاز تھا۔ اس کلیش کو سمجھنے کیلیے یہ مثال بہت اہمیت رکھتی ہے۔
    اگر آپ اس موضوع پر ایک سنجیدہ اور معلوماتی ڈیبیٹ میں دلچسی رکھتے ہیں تو اس مثال کے حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں تاکہ اسے ٹھیک لحاظ سے ڈسکس کیا جاسکے۔

  • میرے بھائی گلیلیو ایک سائنسدان تھا اور اس کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔۔ ہم کسی ایک کے اختلاف کے باعث سائنس کو مذہب کا متعارض و متضاد نہیں قرار دے سکتے ۔مذہب اور سائنس کی بنیادی تعاریف کو پیش نظر رکھ کر بات کریں گے تو ان کا حقیقی تعلق سامنے آئے گا نہ کہ کسی ایک سائنس دان کی رائے یا کسی عصر تاریک کے چرچ کا رد عمل اس حوالے سے ہمارے مدد کر سکتا ہے

  • ملک جاوید says:

    گلیلیو اور Catholic Church کے درمیان جھگڑا ایک سائنسدان اور کسی ایک مذہب کا نہیں تھا۔
    گلیلیو اور Catholic Church کے درمیان جھگڑا درحقیقت مذہب اور سائنس کے درمیان کلیش (clash ) کا آغاز تھا۔
    عیسایت، اسلام اور دنیا کہ اکثر مذاہب میں سچ تک پہنچنے کا طریقہ ملتا جلتا ہے جو کہ سائنس میں سچ معلوم کرنے کے طریقے سے گہرا تضاد رکھتا ہے۔
    اگر آپ اس ڈیبیٹ کو معنی خیز meaningful شکل دینا چاہتے ہیں تو چرچ اور گلیلیو کے درمیان جھگڑے کے حقائق پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں۔ پاوں کس لیے گھسیٹ رہے ہیں؟

  • بھائی اگر آپ کو معلوم ہے تو روشنی ڈال کر بات کو آگے بڑھائیں۔۔۔ کیوں بات کو لمبا کر رہے ہیں ۔
    یہ آپ کا دعوی ہے کہ تضاد ہے اور یہ بھی آپ ہی کا دعوی ہے کہ گلیلیو سے اس کا آغاز ہو
    اب یہ میں کیوں بتاؤں کہ کیسے ہو
    آپ اپنا موقف پیش کیجئے، اس مثال کو بالتفصیل ذکر کیجئے اور پھر جواب کا انتظار کیجئے جو کہ ڈیبیٹ کا صحیح اور مسلم طریقہ ہے۔ یہ سوال آپ نے جتنی بار کیا ہے اس سے بہتر تھا آپ آغاز کر دیتے۔۔
    اب آپ پاؤں مت ھسیٹیے گا، بلکہ باقاعدہ آغاز کیجئے۔۔۔۔
    قرآن يقينا سنائنس كی كتاب نہيں۔۔۔ ليكن سائنس كے خلاف بھی نہيں۔۔ اور يہي حال احاديث رسول كا بھي ہے۔۔۔ خلاصہ يہ كہ اسلام ايك ضابطہ حيات ہے۔۔۔ اور سائنس ضابطہ حيات نہيں ہے۔۔۔اس لئے دونوں كو آمنے سامنے ركھ كر ان كا تقابل كرنا درست نہيں ہے۔۔۔۔ يہ تقابل تب درست ثابت ہو سكتاہے جب يہ ثابت ہو جائے كہ ہاں سائنس بھی ايك مكمل ضابطہ حيات ہے۔۔۔

    باقی رہی اسلام كی بات تو قرآن و سنت كی روشنی ميں جو بھی اسلامی احكامات ، عقائد و نظريات ہيں۔۔۔ ان پر ايمان بالغيب لانا ايك مؤمن كےلئے ضرروي بھی ہے اور اس سے طلوب بھی ہے۔۔۔۔۔

    جس طرح ايمان بالغيب كا يہ مطلب نہيں ہے كہ۔۔۔ ہر تحقيق كے دروازے بند كر ديے جائيں۔۔۔۔ اسي طرح سائنسی تحقيق كا يہ مطلب بھی نہيں ہے كہ چونكہ سائنسی طور پر فلاں بات ثابت نہيں ہوتی لہذا قابل قبول بھی نہيں ۔ چاہے قرآن و سنت ميں اس كے ثبوت كا واضح حكم موجود ہو۔۔۔۔
    ميرے كہنے كا مقصد يہ ہے كہ دين اسلام كو ڈسپيرن كی گولی بنا كر نہ ركھ ديں۔۔۔۔ يعنی جس طرح ڈاكٹر نے كہا اور تجربات سے ثابت ہوا كہ ڈسپرين كھانے سے سر درد ميں آرام آتا ہے تو اب ضرور كھائيں گے۔۔۔۔ اس ميں شفا نہ ڈسپرين نے دی نہ ڈاكٹر نے اصل شافع تو اللہ كی ذات ہے۔۔ ليكن اس طرف عموما توجہ نہيں جاتی۔۔۔۔ اسی طرح اسلامی عقائد و احكام كو سائنسی طور پر دين كی حقانيت كے ثبوت كے لئے تو ضرور ثابت كيجئے ليكن ۔۔۔ اگر يہ نيت ہو كہ فلاح بات اگر سائنسی طور پر درست ثابت ہو جائے تو مان لوں گا ورنہ نہيں۔۔۔۔۔ تو يہ قرآن و سنت۔۔ اللہ ورسول صلی اللہ عليہ والہ وسلم كی اطاعت ۔۔ جس كو ا يمان بالغيب كہا گيا ہے۔۔۔۔ نہيں ہو گی۔۔۔ بلكہ اب دين ايك ڈسپرين كی گولی بن گيا۔۔ سائنسی ڈاكٹر نے كہا تو مان ليا۔۔۔۔ اس نے كہا تو نہيں مانا۔۔۔۔۔۔۔ حلانكہ يہ طے شدہ حقيقت ہے كہ سائنس تبديل ہوتی آ رہی ہے۔۔۔۔ اور سائنس نام ہے تجربات اور مشاہدات كا۔۔۔۔۔ اور ايك شحص كے تجربات اور مشاہدات دوسرے سے مختلف ہو سكتے ہيں۔۔۔۔
    اس لئے قرآن و سنت يا دين اسلام كے كسی مسلمہ عقيدے يا حكم كے مقابلے ميں چند لوگوں كے مشاہدات اور تجربات كو سطحی سی تحقيق كے بعد ترجيح دينا۔۔۔ قرآن و سنت كے بيان كردہ صراط مستقيم سے ہٹ كر ہي ہو گا۔۔۔۔۔۔
    ميرے كہنے كا مقصد يہ ہے۔۔۔۔ كہ بحث ميں اس امر كو ملحوظ خاطر ضرور ركھيں كہ۔۔۔ قطعی اور يقينی علم كون سا ہے۔۔۔۔ قرآن و سنت كا يا سائنس كا۔۔۔

  • ملک جاوید says:

    اسلام ايك ضابطہ حيات ہے۔۔۔۔ آپ سے یہ میں کئی بار سن چکا ہوں لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے اس کی کوئی خاص سمجھ نہیں۔ اس پر اگر سادہ الفاظ میں کچھ روشنی ڈال دیں تو میرے لیے اور شاید کچھ دوسرے ساتھیوں کیلے بھی مدد گار ثابت ہو۔ میں تو اکثر اس سے یہی مطلب اخذ کرتا ہوں کہ مولوی اسکو انسان اور دنیا کے ہر پہلو میں پنگا لینے کا حق حاصل کرنے کیلیے استعمال کرتے ہیں۔

  • ابھی تک یہی سمجھ میں نہیں آیا کے آپ پوچھنا کیا چاہتے ہو
    اگر آپ کو مذہب کہیں سائنس سے متصادم نظر آتا ہے تو وہ وجہ لکھئے
    اور اسکے علاوہ کچھ معلومات چاہئے تو اس بارے میں لکھئے
    مجھے لگتا ہے
    you are confused
    اور اگر آپ دوسروں کے امتحان لے رہے ہیں تو ۔۔۔۔۔
    اور اگر آپ اپنی کچھ معلومات شئر کرنا چاہتے ہیں تو

  • ملک جاوید says:

    بھائی میں کسی بھی ساتھی کا امتحان نہیں لے رہا۔ میں صرف ایک اسلامی عقیدہ جاننا چاہتا ہوں تا کہ اسے مثال بنا کر واضع کر سکوں کہ میں بحثیت مسلمان کیوں یہ مانتا ہوں کہ اسلام اور سائنس میں تضاد ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مکس نہیں ہوسکتے۔
    کیا میں کنفیوزڈ ہوں؟
    ابھی تو ڈسکشن شروع ہی نہیں، میرے دلائل سنے بغیر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں کنفیوزڈ ہوں؟

  • آپ اگر یہ جانتے ہیں کہ تضاد ہے۔ اور آپ اس کا کئی بار اظہار بھی کر چکے ہیں۔
    تو وہ تضاد کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ ان کی تفصیلات آپ کو اپنے پہلے مراسلے میں ہی پیش کر دینی چاہیئے تھیں۔
    لیکن تا حال آپ نے سوائے سوال کے کچھ نہیں کیا، اور سوال بھی وہ جس پر آپ بہت اچھی معلومات بھی رکھتے ہیں۔
    یہ طریقہ ڈیبیٹ کا نہیں ہے ۔۔ بلکہ صرف امتحان کا ہے
    آپ ڈیبیٹ کا آغاز کیجئے۔۔۔ اپنا موقف بمع دلائل کے تحریر کر دیجئے۔۔
    کسی سے بار بار سوال پوچھ کر اور پھر اس کا موقف آنے پر اس کو غلط ثابت کرنے کے لئے تفاصیل لکھنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔۔
    دو بالعکس نکات جو کہ دونوں درست ہیں۔
    1۔ سائنس اور مذہب دو الگ الگ مکتبہ فکر ہیں۔ بالکل درست ہے۔ اگر یہ مذہب اسلام نہیں۔ اس لئے کہ دیگر مذاہب مضحکہ خیز تصورات سے بھرے پڑے ہیں۔ اس کی وجہ اس کے ماننے والوں کے اعتقاد ہیں۔
    2۔ سائنس اور مذہب ایک دوسرے سے متصادم نہیں۔۔۔۔ بالکل درست ہے۔۔۔۔ اگر یہ مذہب اسلام ہے ۔ اس لئے کہ اسلام کی بنیادی کتاب قرآن حکیم میں آج تک کوئی سائنسدان کچھ بھی غٌط نہیں‌نکال سکا۔ اس کی وجہ صرف میرا ایمان ہی نہیں‌۔ میری عمومی تعلیم بھی ہے۔ سائنس کے معانی ہیں جاننا۔۔ یعنی علم حاصل کرنا۔ قرآن حکیم واضح طور پر بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان بنانے کے بعد اس کو سائنس پڑھائی یعنی سب کے سب نام ،(اشیاء‌ اور پراسیسز سب) سکھا دئے۔

  • ملک جاوید says:

    آپ نےمیرے میرے سوالات کے پیچھے وجہ کا جو گھیس لگایا ہے وہ اب بھی درست نہیں بہرحال میرا مشورہ ہے کہ آپ موضوع پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں میں اسپر ڈیبیٹ میں دلچسپی رکھتا ہوں، لیکن یہ تو شروع نہیں ہو رہا اگر ہو جائے تو میں اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کروں گا۔

    ضابطہ حیات اور اس جیسی کئی دوسری اسلامی ٹرمز کو سمجھنے کیلیے میرے پاس کوئی سورس نہیں، اسکی اطمینان بخش وضاحت کا شکریہ ۔ البتہ مولوی صاحبان کس حد تک دخل اندازی کا جائز حق رکھتے اس کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہوں گا مگر اس کی باری پر پہلے اسلام اور سائنس کے درمیان تضاد کی باری ہے جس پر جلد مناسب مراسلہ پوسٹ کرنے کی کوشش کروں گا مگر وعدہ نہیں۔

  • محترم ۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ اپنا موقف بیان کرنے اور سمجھانے کے بجائے سوالوں میں‌ وقت ضائع کررہے ہیں۔ اور اگر آپ کو یہ بات لکھی جائے توغصہ بھی کرتے ہیں۔ آپ اپنا موقف بیان کردیں کہ آپ کس وجہ سے اسلام اور سائنس میں‌ تضاد سمجھتے ہیں‌ نیز کس وجہ سے اسلام کو ضابطہ حیات نہیں‌ مانتے۔ ویسے میں‌بتا تا چلوں کہ ضابظہ حیات کا مطلب ہے زندگی گزارنے کا طریقہ ۔ اس میں انسان کا ہر عمل شامل ہے۔ اور اسلام میں‌ ایک مسلمان کو زندگی کے ہرشعبے کے متعلق تفصیل سے رہنمائی فراہم کی گئ ہے ۔ حتی کہ ازداوجی زندگی ۔ طہارت کے مسائل ، میت و جنازہ کے مسائل ۔ معیشت ومعاشرت غرضیکہ کوئی ایسا شعبہ نہیں‌چھوڑا کہ جس کے متعلق سنت نبی یا قرآن سے ہدایات نہ ملتی ہوں۔ اوریہی چیز اسلام کو دوسروں‌ سے ممتاز کرتی ہے۔ اگر ہم اسکو مولوی کا پنگا کہیں ‌تو نرم لفظوں‌ میں‌ یہ نادانی ہوگی۔

  • ملک جاوید says:

    ہر مخلوق کا بنانے والا اللہ ہے، اس اسلامی عقیدے اور سائنس کی evolutionary theory کے درمیان تضاد سےتو اکثر لوگ واقف ہیں، حالیہ دماغ پر سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی روح کیلیے کوئی ثبوت نہیں ملا اور اسلیے سائنس میں روح کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اب سائنس یہ کہہ رہی ہے کہ کائنات کے بنانے کیلیے خدا جیسی ہستی کی ضرورت ہی نہیں۔
    سائنس اور مذہب کے درمیان تضاد کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ رویہ اختیار کرنا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں اور گہرے دوست بھی ہیں (اگر ہم اسے شکست نہیں دے سکتے تو چلو ہم سائنس کے دوست بن جائیں) ایک انتہائی ناقص تدبیر ہے۔ اس تدبیر کو ڈھونڈنے اور استعمال کرنے والےمغربی ممالک کے کرسچین گروپس ہیں اور اب ہمارے کچھ لکیر کے فقیر اس ڈگر پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ نہ تو کرسچین کیلیے کام کرے گی اور نہ ہمارے لیے۔
    سائنسدانوں کے مطابق سائنس اور مذہب میں کوئی مطابقت نہیں۔ ان دونوں کے درمیان یوں تضاد ہے جیسے rationality اور irrationality میں۔ سائنس مذہب کو درست نہیں غلط ثابت کرنے کے ثبوت فراہم کر رہی ہے اور مذہب کے پاس سائنس کو پیش کرنے کیلیے کچھ بھی نہیں۔ادھر ہماری نادانی کی یہ حد کہ ہم سائنس کے ساتھ پیار کی پینگیں ڈالنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
    چونکہ کچھ نامور سائنسدان مذہب کے ماننے والے تھے اسلیے آپ کہیں گے کہ سائنس یقیناً مذہب کے ساتھ کچھ نہ کچھ مطابقت ضرور رکھتی ہے۔اگر کچھ لوگ شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی دوسری عورت (سائنس) کو محبُوبہ بنا لیتے ہیں تو یہ ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں کہ وفا اور بے وفائی میں مطابقت ہے۔ پھر کسی سائنسدان کے دماغ میں دو مخالف نظریات کا جگہ رکھ لینا اس بات کا ثبوت کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ دونوں مطابقت رکھتے ہیں؟
    جس طریقے سے سائنس اور مذہب میں سچائی تک پہنچا اور اسے قائم کیا جاتا ہے وہ بھی ان دونوں میں ناموافقت کا شفاف ثبوت ہے۔ سائنس کو تحقیقی اور اصلاحی شک و شبے کا ایک سبجیکٹ مانا جاتا ہے جس میں لاجک سے تلاش، ثبوت اور استدلال کے ساتھ نتایج اخذ کیے جاتے ہیں۔ اسمیں پہلے hypothesises ، تجویزیں اور ماڈلز پیش کیے جاتے ہیں پھر انہیں غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اگر انہیں غلط ثابت نہ کیا جا سکے تب انہیں درست مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی کسی وقت انہیں مناسب ثبوت کی مدد سے غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔
    مذہب اس کے انتہائی بر عکس سوچنے کی کچھ لازمی صَلاحِیَّتوں کومعطل کرنے کا تقاضہ کرتا ہے۔ اسمیں ایسے عَقائِد جنہیں سائنسی لحاظ سے ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا انہیں مذہبی انسٹی ٹیوشنز اور ایک لمبے وقت اور عرصے کی مدد سے غیر متزلزل اورمستحکم سچائی میں بدلا جاتا ہے۔
    اسلیے میرے خیال مِیں جو لوگ نادانی سے اسلام کا سائنس کے ساتھ تعلق جوڑ کر یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اسمیں اور اسلام (مذہب) میں کوئی تضاد نہیں، وہ غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی دوستی نہیں، یہ تو آہستہ آہستہ مذہب کو چاٹ کر کھائے جا رہی ہے۔ یہ دونوں الگ الگ فیلڈ ہیں اور انہیں مکس نہیں کرنا چاہیے، سائنس کو مسجد میں نہ لائیں اور اسلام کو لیبارٹری سے دور رکھیں۔

  • پیارے بھائی
    میں آ پ سے گذارش کروں گا کہ آپ میرے مراسلے کو دوبارہ بغور پڑھیں ۔ا س میں تقریباً ان تمام اشکالات کو بیان کیا ہے جس کا آپ نےتذکرہ کیا ہے ۔ اور پھر ان تمام اشکالات کو دور کرنے کے لیے چند اصول بھی لکھے ہیں۔
    مزید آسانی کےلیے اوربات کو سمجھانے کےلیے عرض کرتا ہوں کہ جس طرح مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں فرق ہے اسی طرح مغربی سائنس اور اسلامی سائنس ﴿یہ اصطلاح سمجھانے کےلیے استعمال کررہا ہوں﴾میں بھی فرق ہے۔جس طرح مغربی جمہوریت میں عوام کی اکثریت حلال کو حرام اور حرام کو حلال قراردے سکتی ہے اسی طرح مغربی سائنس میں بھی سائنسدانوں کی اکثریت ہی کسی نظریے کو درست یا غلط قرار دے سکتی ہے۔مغرب میں خدا اور اس کے قانون کی کوئی اہمیت بلکہ زیر بحث نہیں ہے۔
    مگر محترم !اسلامی جمہوریت میں عوام یا پارلیمنٹ قرآن وسنت سے متصادم کوئی قانون نہیں بنا سکتی اوریہ بات مغربی جمہورت کی عین ضد ہے مگر اس کے باوجود پاکستان میں طرزحکومت کو جمہوریت ہی کہا اور سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی وغیرہ ،جب سإئنسی میدان میں ریسرچ کریں گے تو وہ مسلمان سائنسدان ہی کہلائیں گے ،جیسا کہ اہل مغرب ان کو سمجھتےبھی ہیں ،حالانکیہ انہوں نے مغرب کے اعلی اداروں میں ہی پڑھا اور ریسرچ کی مگر پھر بھی سچے مسلمان ہیں ﴿یعنی سائنس ان کی مذہبی سوچ کو متاثر نہ کرسکی ﴾۔
    تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ سائنس کے اصل موجد مسلمان سائنسدان ہی تھے ۔جس وقت آٹھویں صدی سے بارویں صدی تک مسلمان سائنسی میدان میں چھائے ہوئے تھے ،اس وقت مغرب جہالت کے ا ندھیروں میں غرق تھا۔بدقسمتی سے یا مشیت خداوندی سے جب بغداد اور اندلس کو تباہ کر دیا گیا تو مسلمان اس میدان میں پیچھے رہ گئے اور یورپ کے ہاں سائنسی علوم کو فروغ ملااور ڈارون کے زمانے تک سائنس کومذہب سے جدا تصور نہیں کیا جاتا تھا۔بعدازاں ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے مذہب اور سائنس میں دوری پیدا کی ۔چناچہ سائنس بذات خود ایک علم ہے جو مغرب کے خود ساختہ ،وضع کردہ اصولوں سے” کافر’’ نہیں ہوگئی کہ اسلام اور کفر میں تضاد ہو۔
    خلاصہ کلام یہ کہ جس طرح مغربی جمہوریت کے چند اصولوں کو بدل کر اسلامی جمہوریت میں بدلاجاسکتا ہے اسی طرح مغربی سائنس کے کچھ اصولوں کو بدل کر اسلامی سائنس کا نام بھی دیا جاسکتا ہے ۔اور یہی کیا بھی گیا ہے۔ یاد دلاتا چلوں کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے تو مغرب نے اس کو اسلامی بم کا نام دیا تھا،حالانکہ آپ بھی جانتے ہیں کہ بم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
    جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سائنس خدا سے انکاری ہو گئی ہے تو یہ بات درست نہیں ۔کئی مشہور سائنسدانوں نے اقرار کیا ہے کہ سائنس کی ہی بدولت انہیں خدا کو پہچاننے کا موقع ملا ہے ۔یہ معلومات آپ کو میرے اس مضمون سے مل جائیں گیں۔
    http://quraniscience.com/what-is-the-opinion-of-scientists-about-religion/
    اسی طرح اگر روح کے متعلق سائنسدان کسی نتیجے پر نہیں پہچنے تو یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ اللہ کے علم کے مقابلہ میں انسان کے علم کی مثال سمندر کی نسبت چڑیا کے منہ میں جانے والے پانی کے ایک گھونٹ کے مترادف ہے ۔روح کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں مثلاً جن ،فرشتے ، جنت ، جہنم ،سات آسمان اور سات زمینیں وغیرہ ۔ ہو سکتا ہے کہ سائنس ان تک کبھی پہنچ ہی نہ سکے مگر اس کم علمی کو ہم اسلام اور سائنس میں تضاد نہیں باور کراسکتے ۔ علاوہ ازیں یہ طرز عمل بھی درست نہیں کہ ہم ایسی چیزوں کی اس طرح خودساختہ تاویلات کریں کہ جس سے اہل مغرب کی نظر میں اسلام قابل قبول صورت اختیار کرلے ،چاہے اس کوشش سے اسلامی عقیدہ کتنا ہی مجروح کیوں نہ ہوجائے ۔ جیسا کہ جناب سرسید احمد خان نے کیاتھا۔۔
    باقی جہاں تک ڈارون کے نظریے کا تعلق ہے تو میرا آپ سے سوال ہے کہ یہ ایولیوشنری تھیوری یا نظریہ ارتقاء سائنس کا ہے یا صرف ایک سائنسدان اور اس کے کچھ شاگردوں گا؟
    اور یاد رہے یہ تا حال نظریہ ہی ہے ۔ حقیقت نہیں۔ اس لئے اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا۔
    اس ایک نظریے کو سائنس کی اصل اسی صورت میں کہا جا سکتا ہے جب تمام کے تمام سائنسدان اس کی آمد کے بعد سمعنا و اطعنا کہتے ہوئے سر تسلیم خم کر دیتے اور اس کے مقابل کوئی تھیوری پیش نہ ہوتی۔
    لیکن آپ بھی بخوبی واقف ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔
    بلکہ اس کے بعد ایک نہیں بلکہ کئی تھیوریز یا نظریات آئے ۔۔
    المختصر ۔۔ اس بنیاد پر تضاد و تناقض تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ محض نظریہ اتنی اہمیت و صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس کی بنا پر حقائق کا انکار کیا جا سکے۔

  • ملک جاوید says:

    یہ بات بلکل درست ہے کہ قدیمی سائنس میں اسلامی سائنسدان صدیوں آگے تھے۔ لیکن ان کی دریافتوں میں اور اسلام میں اسوقت کوئی خاص تضاد نہ تھا جیسے ہی یہ تضاد پیدا ہونا شروع ہوا مسلمانوں نے سائنس سے دوری میں بہتری سمجھی اور اسطرح اس میدان میں ہم پیچھے ہوتے چلے گئے۔
    اسلامی ممالک کے اندر سائنس میں ترقی اسوقت نہیں ہو گی جب تک ہمارے معاشرے میں سوچنے کی کچھ لازمی صَلاحِیَّتوں پر ہتھکڑی لگی رہے گی اور سوال کرنے کی مکمل آذادی نہیں ہوگی۔ ہم کسی مسلمان سائنسدان کی قران اور حدیث سے مطابقت رکھنے والی دریافت کو تو قبول کرسکتے ہیں مگر ایسی دریافت جو بظاہر مطابقت نہیں رکھتی اس کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جب تک ان نا موافق سائنسی دریافتوں کے خلاف مولویوں کےکفر کے فتووں کا خطرہ منڈلتا رہے گا سائنس یہاں ترقی نہیں کرسکتی۔ مغربی ممالک ہم سے آگے اسلیے نکلے گَئےہیں کہ وہاں سائنسدانوں کو سوچنے اور ہر قسم کا سوال پوچھنے کی مکمل آزادی ہے۔
    جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ کئی مشہور سائنسدانوں نے اقرار کیا ہے کہ سائنس کی ہی بدولت انہیں خدا کو پہچاننے کا موقع ملا ہے۔ تو ان مشہور سائنسدانوں نے سائنس میں کیا دریافت کیا ہے جس سے سائنس میں خدا کی ہستی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ حقیت تو یہ ہے آجکل سائنس کے کسی علم یا حصے میں جو وضاحتیں پیش کی جا تی ہیں ان میں کسی میں بھی اللہ تعٰلی کے کِردار کو نہیں مانا جاتا۔اگر ان سائنسدانوں کو سائنس کی ہی بدولت خدا کو پہچاننے کا موقع ملا ہے تو پھر خدا کا نام سائنس سے کیوں غیر حاضر ہے؟
    آجکل جو لوگ تاویلیں گھڑ کر مذہب کا تعلق سائنس سے جوڑنے میں مصروف ہیں وہ باتوں سے زیادہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ۔ سائنس صرف باتیں ہی نہیں کام بھی کرتی ہے اور اسی لیےکامیاب ہے ۔سائنسی طریقے سے حقائق کو دریافت کرنے کیلیے سائنس کو بے حد کامیابی ہوئی ہے اور اکثر لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاویلیں گھڑنے والے اس کامیابی سے صرف فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔
    اگر ہر مراسلے کو ایک پوائنٹ تک محدود رکھا جائے تو میرے خیال میں سمجھنے کے علاوہ اسکا جلد جواب دینے میں بھی آسانی ہو سکتی ہے۔

  • ملک جاوید says:

    میرا بڑا مقصد یہاں evolutionary theory کیلیے ثبوت فراہم کرنا نہیں بلکہ اسلام اور سائنس کے درمیان تضاد ثابت کرنا ہے چونکہ موجودہ سائنس اس تھیوری کوٹھوس ثبوت کی بنا پر اسے مانتی ہے اسلیے میرا اسکو تضاد کی مثال کے طور پر پیش کرنا قابل قبول ہے۔ اس کو تسلیم نہ کرنا یا اس سے انکار ہی کافی نہیں، اس کے خلاف ٹھوس سائنسی ثبوت یا دلائل بھی ضروری ہیں اگر آپ کے پاس ایسے ثبوت یا دلائل ہیں تو انہیں پیش کر یں اور اسلام کی خدمت کر کے ثواب حاصل کریں۔
    Evolution by natural selection ایک ایسی تھیوری ہے جو اب سخت طاقتور ہو چکی ہے کیونکہ اس کے حق میں اسقدر سائنسی ثبوت حاصل ہو چکا ہے کہ دینا بھر میں تمام سائنسدان اب اسکو مانتے ہیں اسلیے اسے سائنسدان اب fact یا حقیقت بھی کہہ رہے ہیں۔
    ڈارون کے مر جانے کے ساتھ یہ تھیوری بھی ختم ہو گئی تھی، کئی سائنسدان اس کے خلاف ہوگے تھے لیکن بعد میں سائنسی ٹیکنیکس میں ترقی کی وجہ سے اس کے حق میں نئے نئے ثبوت سامنے آنے شروع ہو گے اسلیے یہ دوبار زندہ ہوگئ۔
    سائنسی لحاظ سے اس کے مقابلے میں کوئی اور تھیوری نہیں ہے، مجھے معلوم نہیں اگر آپ جانتے ہیں تو بتا دیں؟

  • محترم آپ کا یہ کہنا کہ
    ّ(یہ بات بلکل درست ہے کہ قدیمی سائنس میں اسلامی سائنسدان صدیوں آگے تھے۔ لیکن ان کی دریافتوں میں اور اسلام میں اسوقت کوئی خاص تضاد نہ تھا جیسے ہی یہ تضاد پیدا ہونا شروع ہوا مسلمانوں نے سائنس سے دوری میں بہتری سمجھی اور اسطرح اس میدان میں ہم پیچھے ہوتے چلے گئے۔)
    جناب
    یہ بات حقائق کے سراسر خلاف ہے کہ مسلمانوں نے تضاد کی وجہ سے سائنس سے دوری میں بہتری سمجھی اور اس طرح وہ اس میدان میں پیچھے رہ گئے ۔ کیا آپ اس کی چند مثالیں دے سکتے ہیں ؟سوائے ڈارون کے مفروضے کے،اور یہ بھی انیسویں صدی کی بات ہےجبکہ مسلمانوں کی سائنسی ترقی کا عمل بغداد و اندلس کی تباہی کی وجہ سے تقریباً چودویں صدی سے رک گیا تھا۔ ڈارون اور بغدادو اندلس کی تباہی میں تقریباً 500 سال کا فرق ہے۔ اورآپ اپنے مطلب کی خاطر ا س کی غلط مثال دے رہے ہیں۔ برائے مہربانی حقائق سے نہ کھیلیں ۔
    اصل بات یہ ہے کہ اسلام اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں ہے اگر تضاد ہے تو ہماری سوچ کا ہے۔ آپ کی سوچ سیکولر ذہن کی عکاس ہے جو مذہب کو کسی فرد کا ذاتی مسئلہ قرار دیتی ہے اور وہ بھی صرف چند مذہبی رسومات کی ادإئیگی تک ۔ زندگی کے باقی شعبوں میں وہ اپنی عقل او ر تجربے کے مطابق عمل پیرا ہو نا چاہتی ہے۔ اگر اس کی عقل او رتجربے میں خالق کائنات کا کوئی نقشہ نہیں بنتا تو وہ اس سے بھی باغی ہونے کو تیار ہے۔
    محترم اسلام کو ئی مذہب نہیں ،یہ دین ہے ۔ اور دین صرف چند مذہبی رسومات کی ادائیگی کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اس کو برتری حاصل ہے ۔دین اسلام عقل انسانی کے استعمال پر بالکل قدغن نہیں لگاتا بلکہ اس کے استعمال کے لیے چند شرإئط کو لازمی قراردیتا ہے ۔اگر ہم واقعتا ً سچے مسلمان ہیں اورقرآن کو منجانب اللہ ہونے پر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بنی برحق ہونے پرا یمان رکھتے ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات پر ایمان بھی رکھنا ہوگا ۔
    میرا آپ سے سوال ہے کہ
    قرآن تو صاف کہتا ہے کہ اس کائنا ت کا بنانے والا اللہ تعالٰی ہے تو مجھے بتایے کہ اگر واقعی سب سائنسدان اس بات پر متفق ہوجائیں کہ یہ کائنا ت خود بخود ہی بن گئی تھی اور اس کاکوئی خالق نہیں ہے ، تو آپ کاطرزعمل کیا ہوگا ؟ آپ قرآن اور نبی کی بات پریقین کریں گے یا سائنسدانوں کی بات پر ؟
    بس میرے بھائی یہی میری اور آپ کی سوچ کا فرق ہے ۔ آپ تمام مولویوں کو ایک ہی کھاتے میں رکھ کر ان پر کچیڑ اچھالنے کو ہی اپنا شیوا بنائے ہوئےہیں ۔ کاش آپ سائنس کی کتابیں پرھنے کےسا تھ ساتھ چند دینی کتابیں بھی پڑھ لیتے تو شاید کوئی بہتر موقف رکھتے۔اگر آپ چاہتے کہ ہمیں مادر پدر آزاد ہو کر سائنسی تحقیق کرنی چاہیے تو آپ کا موقف آپ کو ہی مبارک ہو۔یہ عجیب موقف ہے کہ ہم اس کے بغیر ترقی نہیں کرسکتے ،میرے بھائی میں اس طرح کی ترقی کو گمراہی کہتا ہوں جو خالق کائنات کی نشانیوں پر تحقیق کی بجائے الٹا خالق کائنات کی ذات کوہی مشکوک قرار دے۔
    اور آپ کا یہ کہنا کہ
    (آجکل جو لوگ تاویلیں گھڑ کر مذہب کا تعلق سائنس سے جوڑنے میں مصروف ہیں وہ باتوں سے زیادہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں )
    تو محترم میں نے خود ان تاویلات کی مذمت کی ہے جو جناب سرسید احمد خان نے کیں، ان میں سے ایک ڈارون کے نظریے کو بھی قرآن سے ثابت کرنے کی بھی ناکام کوشش شامل ہے۔ تاویلات اور حقائق میں فرق ہوتا ہے۔جس میں فرق کرنا شاید آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔ دین کے مسئلہ پر ایک عالم ہی بات کرسکتا ہے اور اسی کی بات کو ہی اہمیت دی جائے گی ،ٹھیک اسی طرح جس طرح سائنس کی چند کتابیں پڑھ لینے والے کو آپ سائنس دان نہیں کہیں گےاسی طرح اسلام کی چند کتابیں پڑھ لینے والے کو ہم عالم دین نہیں کہ سکتے۔بحرحال میں نے اس کے لیے بھی چند اصول لکھے تھے جنہیں پڑھنے اور سمجھنے کی بجائے آپ اس طرح کی باتیں لکھ رہے ہیں ۔اگر پڑھے ہوتے تو آپ اس طرح کی باتیں نہ کرتے۔
    محترم نظریہ ارتقاء ایک جھوٹ اور ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اگر اس پربحث کرنی ہے تو میرے اس مضمون کو پڑھیں
    http://quraniscience.com/theory-of-darwinism-is-wrong/
    اور میرے اعتراضات کاایک ایک کر کے جواب دیں ۔ اس کے حق میں تقریر کرنے سے یہ مفروضہ ثابت نہیں ہوتا ۔

  • ملک جاوید says:

    آپ کا یہ کہنا کہ
    (یہ بات حقائق کے سراسر خلاف ہے کہ مسلمانوں نے تضاد کی وجہ سے سائنس سے دوری میں بہتری سمجھی ۔۔۔۔۔۔۔ برائے مہربانی حقائق سے نہ کھیلیں ۔)

    کونسے حقائق کے خلاف ہے؟ وہ حقائق جو آپکو پسند ہیں یا وہ جو آپکو پسند نہیں؟
    سچی بات تو یہ ہے اسلامی قدیمی سائنس میں زوال کیلیے definitive proof تو کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس کی کئی وجوحات ہیں اور حقیقی وجوحات کو تب ہی جانا جا سکتا ہے اگر سب تاریخی حقائق کو مدنظر رکھا جائے نہ کہ جو پسند آئیں وہ چن لیں اور باقی کو نظر انداز کر دیں۔

    اسلامی سائنسی زوال کے دور میں قرآن پاک کو perfect کتا ب اور اسلامی سوسائٹی کو ایک perfect civilisation مانا جاتا تھا اسلیے اکثر مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ انہیں کسی دوسرے علم، کتاب یا civilisation سے کچھ بھی سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ حقیقی سائنسی ترقی تو ان مسلمانوں کی کی وجہ سے ہوئی جنہوں نے اس اسلامی بُنياد پرَستی کے خلاف بغاوت کی۔

    اس دور کے علما بھی سائنسی علوم کی مخالف تھے کیونکہ قرآن کے مطابق اللہ تعٰلی کو ہر عمل پر مکمل مرضی یا آزادی حاصل ہے۔ یہ علما قدرتی phenomenon کے متعلق سائنسی وضاحتوں اور قوانین کو اللہ تعٰلی کی اس مرضی یا آزادی کے متضاد اور خدا کی توہین (blasphemous ) سمجھتے تھے۔ اسلامی مفکر امام غزالی (1059-1111) کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں فلاسلافی کی مدد سےسائنسی تعقیقات کو کمزور کرنے کیلیے نمایاں کردار ادا کیا۔

    یہ باتیں تضاد کی عکاسی نہیں تو کیااسلام اور سائنس میں ہم آہنگی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں؟اب بتائیں حقائق سے کون کھیل رہا ہے؟

    اور آپ کا یہ کہنا کہ
    (اس طرح کی ترقی کو گمراہی کہتا ہوں جو خالق کائنات کی نشانیوں پر تحقیق کی بجائے الٹا خالق کائنات کی ذات کوہی مشکوک قرار دے۔)

    کیا آپ نے اپنے پاوں پر خود ہی گولی نہیں چلا دی، یہ ایک قسم کا اعتراف نہیں کہ سائنس اور اسلام میں تضاد ہے؟

    اور آپ کا یہ کہنا کہ
    ۔۔۔۔۔ آپ کی سوچ سیکولر ذہن کی عکاس ہے ۔
    ۔۔۔۔میرا آپ سے سوال ہے کہ
    ۔۔۔۔۔ تو آپ کاطرزعمل کیا ہوگا ؟
    ۔۔۔۔۔۔ آپ کی سوچ کا فرق ہے ۔۔۔۔۔۔
    کاش آپ سائنس کی کتابیں پرھنے کےسا تھ ساتھ چند دینی کتابیں بھی پڑھ لیتے۔
    تاویلات اور حقائق میں فرق ہوتا ہے۔جس میں فرق کرنا شاید آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔))

    میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اگر آپکو اسپرڈسکشن سے دلچسپی ہے تو موضوع پر توجہ دیں نہ کہ مجھ پہ۔کیا آپ کیچڑ اچھالنے کی عادت سے مجبور ہیں یا جواب نہیں مل رہا اسلیے ڈسکشن کا رخ موڑ کر اسکے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
    آپ موضع سے ہٹ کر میرے بارے میں باتیں جاری رکھنا چاہتے ہیں تو آپکی مرضی مگر مجھ سے آیندہ جواب کی توقع پھر مت رکھیں۔

  • محترم
    میں اپنے موقف کو اچھی طرح بیان کرچکا ہوں اب صرف آپ کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ (جس کے بارے میں آپ تشکیک کا شکار ہیں‌)آپ کو سمجھنےکی اور راہ راست پر آنے کی توقیق عطا فرمائے ۔ آمین
    آپ نے میرے سوال کا جواب گول کردیا ہے وگرنہ عوام الناس کو پتہ چل جاتا کہ آپ گمراہی کی کس انتہا پر کھڑے ہیں‌۔
    محترم میں نے بار بار واضح کیا ہے کہ اگر اہل یورپ مذہب کے بغیر سإئنسی تجربات کرنا چاہتے ہیں‌تو کریں‌ مگر ہم نہیں‌ کریں‌گے۔ ان کو اللہ پر یا اپنے مسیح‌ یا موسی علیہم السلام پر بھروسہ نہیں‌ ہے تو نہ سہی ۔ مگر ہم بطورمسلمان اللہ پرا س کے سچے رسول پر مکمل ایمان رکھتے ہیں‌۔ ہم اگر ٹیچر ہیں‌تو بھی مسلمان اور سائنس دان ہیں‌تو بھی مسلمان پہلےہیں‌۔ مسلمانوں نے پہلے بھی اسی ایمان کے ساتھ ترقی کی تھی اور انشاء اللہ آیندہ بھی جب بھی کوئی بہترین حکومت اور صحیح اسلامی حکومت معرض وجود میں آئی تو پھر بھی اسی ایمان کے ساتھ ترقی کریں‌گے۔ میں نے پہلے بھی آپ کو مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت کی مثال دی تھی مگر پتہ نہیں کہ آپ کیوں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں‌ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی بجائے ڈارون کی اتباع پر لگے ہوئے ہیں ۔اور پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں‌۔

    شرم تم مگر نہیں ‌آتی۔۔۔۔

    میں‌نے پہلے بھی عرض‌کی تھی کہ انسان کی عقل کی ایک حد ہے۔ جس طرح آپ ایک پانچ سال کے بچے کو ازداوجی تعلقات کے بارےمیں‌ بریف نہیں‌کرسکتے اسی طرح آپ مابعد الطبیعات چیزوں‌کے بارے میں‌ اپنی عقل کے گھوڑے‌کو نہیں‌ دوڑا سکتے۔ آپ کی عقل محدود ہے اسی لیے ہمیں‌ان چیزوں‌کے بارے میں‌ زیادہ تفکر سےمنع کیا گیا ہے۔ اور قرآن میں‌اللہ تعالی تو صاف فرماتا ہے کہ اس کی بعض آیات متشابہات میں‌شامل ہیں‌، اس لیے ان کی کھوج میں‌مت پڑیں مگر ساتھ میں‌ یہ بھی بیان کردیا کہ ان متشابہات کے پیچھے وہی پڑیں‌گے کہ جن کی عقل میں فتور ہے۔
    اس لیے میری آپ سےگزارش ہے کہ آپ بات کوسمجھنے کی کوشش کریں‌ ۔ آنکھیں‌بند کرکے سائنس کے نام پر یورپ کی گمراہی سے بچیں‌۔ اور اگر سمجھتے ہیں کہ نہیں‌ ہم سائنس میں‌ ترقی تب ہی کرسکتے ہیں‌ کہ جب ہم قرآن وسنت کی پابندیوں‌سے ہٹ کر تحقیق کریں گے تو شوق سے کرتے رہیں‌ ،ہم تو اس کو گمراہی کہیں‌گے۔ اور یہ اسلام اور سائنس میں تضاد نہیں‌ہے بلکہ میری اسلامی سوچ اور آپ کی سیکولرانہ ذہنیت کا فرق ہے۔
    مولانا مودودی رحمتہ اللہ نے آج سے ساٹھ سال قبل کیا خوب کہا تھاکہ ۔۔۔
    دین حق اور اقامت دین کے تصور میں‌بھی ہمارے اور بعض دوسرے لوگوں‌کے درمیان اختلاف ہے ۔ہم دین کو محض پوجا پاٹ اور چند مخصوص مذہبی عقائد ورسوم کا مجموعہ نہیں‌سمجھتے بلکہ ہمارے نزدیک یہ لفظ زندگی اور نظام حیات کا ہم معنی ہے اور اس کا دائرہ انسانی زندگی کے سارے پہلووں‌ اور تمام شعبوں‌پر حاوی ہے ۔ہم اس بات کے قائل نہیں‌ کہ زندگی کو الگ الگ حصوں میں‌ بانٹ کر الگ الگ نظریات اور الگ الگ اسکیموں‌کے ماتحت چلایا جا سکتا ہے ۔ہمارا خیال یہ ہے کہ اس طرح‌کی تقسیم اگر کی بھی جائے تو وہ قائم نہیں‌رہ سکتی ،کیونکیہ انسانی زندگی کے مختلف پہلو، انسانی جسم کے اعضاء کی طرح ایک دوسرے سے ممیز ہونے کے باوجود آپس میں‌اس طرح‌پیوستہ ہیں‌کہ وہ سب مل کر ایک کل بن جاتے ہیں‌ اور ان کے اندر ایک ہی روح جاری و ساری ہو جاتی ہے ،یہ روح‌اگر خدا اور آخرت سے بے نیازی اور تعلیم انبیاء سے بے تعلقی کی روح‌ہو تو پوری زندگی کا نظام ایک دین باطل بن کر رہتا ہے اور اس کے ساتھ خدا پرستانہ مذہب کا ضمیمہ اگر لگا کر رکھا بھی جائے تو مجموعی نظام کی فطرت بتدریج اس کو مضمحل کرتے کرتے آخر کار بالکل محو کردیتی ہے اورا گر یہ روح خدا اور آخرت پر ایمان اور تعلیم انبیا ء‌کے اتباع کی روح ہو تو اس سے زندگی کا پورا نظام ایک دین حق بن جاتا ہے جس کے حدود عمل میں‌ناخداشناسی کا فتنہ اگر کہیں‌رہ بھی جائے تو زیادہ دیر تک پنپ نہیں‌سکتا ۔
    اس لیے ہم جب اقامت دین کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے ہمارا مطلب محض مسجدوں میں دین قائم کرنا ،یا چند مذہبی عقائد اور اخلاقی احکام کی تبلیغ کردینا نہیں‌ہوتا ،بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ گھر اور مسجد ،کالج اور منڈی ،تھانے اور چھاونی ،ہائی کورٹ اور پارلیمینٹ ،ایوان وزارت اور سفارت خانے ،سب پر اسی ایک خدا کا دین قائم کیا جائے جس کو ہم نے اپنا رب اور معبود تسلیم کیا ہے ،اور سب کاانتظام اسی ایک رسول کی تعلیم کے مطابق چلایا جائے جسے ہم اپنا ہادی برحق مان چکے ہیں ،ہم کہتے ہیں‌ کہ اگر ہم مسلمان ہیں‌ توہماری ہر چیز کو مسلمان ہونا چاہیے ۔اپنی زندگی کے کسی پہلو کو بھی ہم شیطان کے حوالے نہیں‌کرسکتے ۔ہمارے ہاں‌سب کچھ خدا کا ہے ،شیطان یا قیصر کا کوئی حصہ نہیں‌۔
    تو محترم جس طرح‌ہم مغربی جمہوریت کے تما م اصولوں‌کو نہیں‌ مانتے اسی طرح‌ مغربی سائنس کے بھی تمام اصولوں‌کو نہیں‌مانتے،تاہم ہم اپنے اصولوں‌کے ساتھ سائنس کے میدان میں‌ ترقی کرتے رہیں گے چاہے آپ جیسے لوگ اس کو مانیں‌ یا نہ مانیں‌

  • اور آپ کا یہ کہنا کہ
    (آپ تو نظریہ ارتقاء سے اچھی طرح واقف بھی نہیں اور دعوٰی ہے کہ یہ جھوٹ اور فریب ہے، محترم پہلے اسے ٹھیک طرح سے سمجھ لیں اگر آپ میں صلاحیت ہے تو، پھر اسے ضرورجھوٹا ثابت کریں کیونکہ میں بھی مسلمان کے طور پر اسے جھوٹا ثابت ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں لیکن اسکے لیے ٹھوس ثبوت کی ضرورت ہے نہ کہ ناقص دلیلیوں اور بے بنیاد بلند و بانگ دعوٰں کی۔)

    تو بسم اللہ کریں‌ ، اور میرے چودہ اعتراضات کا جواب دیں‌۔ ویسے میں‌ نے ڈارون کا کلمہ پڑھ کر مسلمان کہلانے والا پہلا شخص‌ دیکھا ہے۔ اگر یہ ناقص دلیلیں‌ہیں‌تو اپنے ٹھوس دلائل پیش کردین کہ کس وجہ سے آپ ڈارون کی اتباع کرنے لگے ہیں۔

  • ملک جاوید says:

    میں اصل موضوع کی طرف دوبارہ آتا ہوں کہ میں نے اب تک اسلام اور سائنس کے درمیان تضاد کی تین مثالیں پیش کی ہیں ۔ اسلام کے تین بنیادی عقیدوں اللہ تعلّی کی ہستی ، ہر مخلوق کا بنانے والا اللہ ہے اور روح کو سائنس میں تسلیم نہیں کیا جاتا۔
    آپ نے اس پر جواب دینا ہے تو ضرور دیں۔

  • ایک اہم بات اس جواب سے پہلے ضروری ہے وہ یہ کہ
    سائنس کا موضوع کیا ہے؟ کن اشیاء میں وہ تحقیق کرتی ہے، رائے دیتی ہے اور پھر اس کی رائے کو تسلیم کیا جاتا ہے؟
    دو طرح کی چیزیں ہیں ۔۔ ایک مادی چزیں جن کا وجود ہے اس دنیا میں۔ جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، ان پر تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
    اور کچھ چیزیں ہیں ما بعد الطبیعیات metaphysics ۔۔غیر مرئی ۔۔ ان کا مشاہدہ یا تجربہ نہیں کیا سکتا ۔
    میرے خیال میں یہ سائنس کے موضوعات ہی نہیں ہیں بلکہ یہ موضوعات تو فلسفے اور مذہب کے ہیں۔
    آپ کیا کہتے ہیں؟؟

  • ملک جاوید says:

    فزکس اور بائیآلاجی کے فیلڈز میں سائنس metaphysics کے فلاسفرز کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گئی ہے۔
    ماڈرن دماغی سکینز اور سائنسی تحقیق سے ثابت کیا گیا ہے کہ ہماریmental life یا ذہنی زندگی صرف اور صرف دماغ کے اندرphysical events یا مادی عملوں سے بنتی ہے اور یہ روح جیسی کسی چیز کا نتیجہ نہیں ہے ۔ چونکہ اسکے خلاف مادی ثبوت (Evidence of absence ) ڈھونڈ لیا گیا ہے اسلیے سائنس کو روح جیسی غیر مادی موضوع کی سٹڈی کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اسی طرح سائنس کو اللہ تعٰلی جیسی ہستی کا ثبوت ڈھونڈنے کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ سائنسدانوں نے کائنات اور اسکے کے پیدا ہونے کی ایسی سائنسی وضعات ڈھونڈ لی ہے جسکیلیے اسکے کسی پیدا کرنے والے کی ضرورت نہیں۔

  • فزکس اور بیالوجی کی فیلڈ میں سائنس آگے نکل گئی اور یہ اچھی بات ہے۔ کیوں کہ یہ سائنس کا میدان ہے
    لیکن ان کی یہ ترقی میٹافیزکس کے فلاسفر یا اہل مذہب کو پیچھے چھوڑنے والی نہیں ،،، کیوں کہ میٹا فیزکس سائنس کا میدان ہی نہیں۔
    اور اگر سائنس اس میدان میں ٹامک ٹوئیاں مارتی ہے اور روح اور خالق کائنات کی اہمیت سے انکار کرتی ہے یا وجود سے انکار کرتی ہے تو اس کی بات پر کیسے یقین کریں گے ۔۔ کیوں کہ اس کا موضوع تو محسوسات ہیں

    لہذا اس سے تضاد ثابت نہیں ہوتا ۔۔ کوئی ایسی مثال پیش کریں جس سائنس کے میدان یا دائرہ کار کی ہو، جس پر سائنس کی بات تسلیم کی جاتی ہو۔ جو محسوسات میں سے ہو
    اور بتائیں کہ اس کے بارے میں مذہب اور سائنس متعارض ہیں

  • ملک جاوید says:

    اس مضمون کا موضوع ہے، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے؟
    میں نے اسلام کے تین بینادی عقائد اور ان کے متضاد سائنس کے اپنے نظریات اور وضاتیں نہ صرف پیش کی ہیں بلکہ ان پر مناسب حد تک روشنی ڈالنے کی کوشش بھی کی ہے۔
    کیا سائنس کے ان موضوعات پر نظریات اور وضعاتیں اسکے سکوپ میں ہیں یا نہیں، یہ اس مضمون کا موضوع نہیں اسلیے اسپر بحث نا معقول ہے اور میرا کوئی ارادہ نہیں اسپر اپنا وقت ضایع کرنے کا۔

  • اچھی بات ہے جناب
    جس طرح آپ اپنا وقت اس بات پر ضائع نہیں کر سکتے کہ یہ موضوعات سائنس کے سکوپ میں ہیں یا نہیں
    بالکل اسی طرح
    میں اس بات پر وقت ضائع کرنا ہر گز نہیں چاہوں گا جو سائنس کے سکوپ اور دائرہ کار میں ہی نہیں آتی۔
    فزکس اور بیالوجی میں سائنس کی ترقی سب کے سامنے ہے اور یہ اس کا میدان ہے۔ اور اس میدان میں اس کی باتیں اور دعوے قابل اعتبار ہیں۔
    اگر ڈسکشن کا موڈ ہو تو اس میدان سے مثالیں پیش کریں ۔۔ شکریہ

  • master says:

    قرآن کے علم پر تو نوبل انعام بھی مل چکا ہے .
    ( تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو )

    http://nobelprize.org/nobel_prizes/physics/laureates/1979/salam-speech.html

  • رانا امجد says:

    محترم ماسٹر جی ۔ یہاں قادنیت کو زیر بحث مت لائیں ۔قادیانی ایک گمراہ جماعت ہے ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور نہ ہمیں ان کی مثالوں کی ضرورت ہے۔

  • Iphone 5 says:

    Thanx for that work, sustain the nice perform Wonderful function, I’m likely to start off a little Web site Engine training course perform making use of your website I am hoping you get pleasure from running a blog with all the common BlogEngine.internet.Thethoughts you express are genuinely amazing. Wish you’ll appropriate some far more posts.

  • Salah Mir says:

    ایک صوفی کا قول ھے کہ: قرآن کتاب تخلیق ھے اور سائینس کتاب تحقجق اس فرق کو اگر سمجھ لیا جاۓ تو مذھب اور سائینس میں کوئی تفرقہ نہیں رھے گا۔

  • kashif says:

    قرآن خدا کا قول ہے اور ساینس اس کا عمل

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹٹریک بیک کریں اپنی سائیٹ سے. آپ کرسکتے ہیں Comments Feed بذریعہ ار ایس ایس.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں...

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں

<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong> 

یہ ایک گریویٹار اینیبلڈ ویب سائیٹ ہے۔ اپنا عالمی سطح پرتسلیم شدہ اوتار حاصل کرنے کے لیے رجسٹر کریں گریوٹار.