فلکیات »

January 9, 2013 – 3:49 am | ترمیم

عذاب ِیوم کے دن کی طوالت پچاس ہزار سال ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

ستاروں کے چال چلن سے لوگ مستقبل کا حال بتاتے ہیں ۔ طرح طرح کے دل دہلانے والے انکشافات …

مزید پڑھیے »
ہم مسلمان کیسے ہوئے؟

کن سائنسی تحقیقات کے نتائج نے ہمیں اسلام کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا اور پھر ہم مسلمان ہو گئے

صحت وتندرستی

انسانی صحت کے متعلقہ انٹرنیٹ پٔر شائع ہونے والے مفید مضامین پڑھیے

سائنسی خبریں

سائنسی شعبہ میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات پر مشتمل مضامین پڑھیے

موسمیات

ہوا ، بادل ،پانی اور بارش کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اللہ کی قدرت ان میں کیسے جلوہ گر ہے .

تمہید و ابتدائیہ

قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے ، وغیرہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔

صفحہ اول » حیوانات وحشرات

خنزیر(سؤر) کی حرمت کے سائنسی دلائل

کاتب نے – September 15, 2011 – کو شائع کیا 2 تبصرے

خنزیر کا گوشت حرام کیوں ہے؟سائنسسی تحقیق میں خوفناک وجہ سامنے آگئی

قرآن میں تقریباً 4 مقامات پرسؤرکا گوشت کھانے سے منع فرمایا گیاہے ۔یہ ممانعت ان آیات : 173/2,3/5,145/6,اور 115/16 میں آئی ہے۔ارشادربانی ہے۔

(قُل لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ ِلَیَّ مُحَرَّماً عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ ِلاَّ أَن یَکُونَ مَیْتَةً أَوْ دَماً مَّسْفُوحاً أَوْ لَحْمَ خِنزِیْرٍ فَا ِنَّہُ رِجْس أَوْ فِسْقاً أُہِلَّ لِغَیْرِ اللّہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُور رَّ حِیْم )
''آپ کہہ دیجئے کہ جوکچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کیلئے جو اس کو کھائے ، مگر یہ کہ وہ مردار ہویا کہ بہتا ہواخون ہو یا خنزیر کا گوشت ہوکیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہوتو واقعی آپ کا رب غفور رحیم ہے''۔ (سورہ انعام 145 )

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

 حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْرِ اللّہِ بِہِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّیَةُ وَالنَّطِیْحَةُ وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ ِلاَّ مَا ذَکَّیْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالأَزْلاَمِ ذَلِکُمْ فِسْق( ط﴾
'' تم پرحرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو ، اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جو کسی ضرب سے مرگیا ہو ، اور جو اونچی جگہ سے گر کرمراہو، اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو ، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو، اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعہ فال گیری کرو یہ سب بد ترین گناہ ہیں''۔(سورة المائدة ۔ 3)

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی احادیث میں سؤر کے حرام ہونے کا امت کو بتایا ہے ۔ اور اس کو بیچنا بھی حرام قراردے دیا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی بھی ہے کہ قیامت کے قریب جب حضرت عیسی آسمان سے نازل ہوں گے تو صلیب توڑنے کے ساتھ ساتھ خنزیر کو بھی قتل کریں گے ۔(متفق علیہ)۔

اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اسلامی شریعت میں سؤر کس قدر ناپسندیدہ جانور ہے ۔یہ آیات اور احادیث مسلمانوں کومطمئن کرنے کے لیے کافی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس جانور سے صدیوں سے نفرت کرتے چلے آرہے ہیں ۔مگر مقام افسو س ہے کہ بائبل کے منع کرنے کے باوجود یہودی اور عیسائی اس غلیظ جانورسے محبت کرتے اور اس کا گوشت ان کی مرغوب غذا ہے ۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ بائبل نے اس جانور کے متعلق اپنے متبعین کو کیا ہدایات دی تھیں۔بائبل کے عہد نامہ عتیق کی کتاب احبار میں لکھا ہے :''اور سؤر نہ کھانا کیونکہ اس کے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں،ہر چند وہ جگالی نہیں کرتا،وہ تمہارے لیے ناپاک ہے۔تم ان کا گوشت نہ کھانااوران کی لاشوں کو بھی نہ چھونا،وہ تمہارے لیے ناپاک ہیں''۔
(احبار : 8-7/11)۔کتاب استثنا ء میں لکھا ہے:'' اورسؤرتمہارے واسطے اس لیے ناپاک ہے کہ ا س کے پاؤں تو چرے ہوتے ہیں مگر وہ جگالی نہیں کرتا ۔تم ان کا گوشت نہ کھانا نہ ان کی لاش کو چھونا ''۔(استثناء : 8/14)۔اسی طرح بائبل کی کتاب یسعیاہ باب 65فقرہ 2تا 5 میں بھی سؤر کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے۔
تاہم دوسرے غیرمسلم اور دہریے قرآن مجید اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی وقت کان دھریں گے کہ جب ان کو دلائل عقلی او ر سائنس کی بنیاد پر سمجھایا جائے کہ سؤ ر کا گوشت مختلف قسم کی کم از کم 70 بیماریوں کا باعث بنتاہے۔ اسے کھانے والے کے معدے اور آنتوں میں کئی قسم کے کیڑے پیدا ہوسکتے ہیں۔مثلاً Trichinella Spiralis , پن ورم ،ہک ورم اور Taenia Solium وغیرہ۔ اور بعض کے اندر ایسے بہت سے مراض ہوتے ہیں جو انسان کے درمیان مشترک ہوتے ہیں جیسے (فاشیولا)کیڑے کے اندر انفلونزا کے جراثیم ہوتے ہیں ،ا سی طرح Ascaris اور پیٹ کے سانپ Fasciolopsis Buski , چین میں بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ اور خنزیر پالنے والوں اور ان سے میل جول رکھنے والوں کے اندر Balantidiasis کا مرض وبائی شکل میں ظاہرہوتا ھے۔ جیسا کہ بحرالکاہل(Pacific Ocean )کے ایک جزیرے میں خنزیر کے پاخانہ کے پھیلنے کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ جرمنی، فرانس ، فلپائن اور وینژویلا وغیرہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے جدید ٹیکنیکس بروئے کار لاکرخنزیر کے گوشت کی نجاستوں اور خباستوں کو دور کر دیا ہے لیکن ان ممالک کے مخصوص سرٹیفائڈ فارموں کا مذکورہ گوشت کھانے والے بیشمار افرادمیں بھی Trichinellosisکا مرض لگ جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے معدے سے آواز نکلنے لگتی ہے اور کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں جن کی تعدادکم ازکم دس ہزار ہوتی ہے پھر یہ کیڑے خون کے راستہ سے انسان کے پٹھوں میں منتقل ہوجاتے ہیں اور پھر مزیدمہلک امراض کی شکل اختبار کر لیتے ہیں ۔اسی طرح Spiralisکا مرض بیمارخنزیر کا گوشت کھانے سے لگتا ہے ۔ اس مرض میں بھی انسان کی آنتوں کے اندر کیڑا پروان چڑھنے لگتا ہے جس کی لمبائی کبھی کبھی سات میٹر سے بھی لمبی ہوتی ہے جس کا کانٹے دار سر آنتوں کی دیواروں کے اندر فضلے اوردوران خون کی دشواری کا سبب بنتا ہے اسکی چار چو سنے والی چونچیں اور ایک گردن ہوتی ہے جس سے مزید چونچ دار کیڑے وجود میں آتے ہیں جن کا ایک مستقل وجود ھوتا ہے اور تعدادہزار تک ہوتی ہے ، اور ہر بارہزار انڈے پیدا ہوتے ہیں اور انڈوں سے ملوث کھانا کھانے کی صورت میں Taenia Soliumکا مرض لگ جاتا ہے ۔ٹائینا سولیئم کے انڈے(Ova)خون کی گردش میں شامل ہو کرجسم کے کسی بھی حصے میں پہنچ جاتے ہیں اگر یہ دماغ تک جاپہنچیں تو یادداشت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اگر یہ دل میں داخل ہو جائیں تو دل کے دورے کی وجہ بن سکتے ہیں۔آنکھ میں جاپہنچنے پر نابینا پن ہو سکتا ہے۔جگر میں داخل ہو جائیں تو پورے جگر کا ستیاناس کر ڈالتے ہیںغرض اس ایک مرض سے جسم کے کم و بیش تمام اعضا غارت ہو سکتے ہیں۔سور کے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اسے 70ڈگری پر پکانے سے اس کے بیشتر جراثیم مر جاتے ہیں جو کہ صرف اپنی پراڈکٹس بیچنے کا پراپیگنڈہ ہے۔
امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس گوشت کے استعمال سے لگنے والے خطر ناک طفیلئے ٹرائی کیوراسے متاثرہ چوبیس افراد میں سے بیس ایسے تھے جنہوں نے 70ڈگری سے زائد پر پکا ہواسؤر کا گوشت کھایا تھااس سے اخذ کیا گیا کہ مخصوص درجہ حرارت پر پکانے سے بھی ایسے جراثیم کسی طور نہیں مرتے۔اس گوشت کے کھانے والے میں بے غیرتی کے جراثیم بھی داخل ہو جاتے ہیں یعنی اپنی ازدواجی زندگی میں دیگر مرد حضرات کی شراکت اچھی لگنے لگتی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنی بیویاں ایک دوسرے سے بدلنے والے سور کے گوشت کے رسیا ہوتے ہیں لہذا مسلمان تو مسلمان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے یالادین افراد کوبھی اپنی صحت اور متوازن انسانی طرز زندگی کی خاطراس کے استعمال سے لازمی بچنا چاہئے ۔علاوہ ازیں سؤر کے گوشت میں عضلات ساز مادہ کم اور حد سے زیادہ چربی ہوتی ہے ۔یہ چربی خون کی نالیوںمیں جم جاتی ہے جو فالج اور دل کے دورے کا باعث بنتی ہے ۔یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ 50فیصد امریکی ہائی بلڈ پریشر کا شکا رہیں۔
سؤر روئے زمین کا غلیظ ترین جانور ہے ۔یہ گوبر ، فضلے اور گندگی پر پھلتاپھولتا ہے ۔اسے اللہ تعالیٰ نے غلاظت خور اور سب سے زیادہ گندگی پر گزار کرنے والا جانور بنایا ہے ۔دیہات میں عموماً لیڑنیز اور بیت الخلا نہیں ہوتے ،اس لیے لوگ کھلی جگہوںپر رفع حاجت کرتے ہیں اور اکثر اس غلاظت کو سؤر ہی چٹ کرجاتے ہیں۔کوئی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک جیسے آسٹریلیا وغیرہ میں سؤروں کو بڑی صاف ستھری جگہ پالا جاتاہے۔ان صاف جگہوں پر بھی ان کو باڑوں میں رکھاجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سؤروں کو کتنی ہی صاف ستھری جگہ پر رکھا جائے ،اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ،یہ فطرتاً گندے ہیں ۔وہ نہ صرف اپنا بلکہ ساتھ والے کافضلہ بھی کھا جاتے ہیں۔
خنزیر زمین پر پایا جانے والا سب سے بے شرم جانور ہے ۔یہ واحد جانورہے کہ جو دیگر سؤروں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ ا س کی ساتھی سؤرونی سے بُرائی کریں۔امریکہ ا ور یورپ میں اکثر لوگ اس کا گوشت کھاتے ہیں۔اسی کا اثر ہے کہ آج اُس معاشرے میں شرم وحیا کا جنازہ نکل چکا ہے۔بائبل کے منع کرنے کے باوجو دیہ سؤروں کو پالتے ، ان کاگوشت کھاتے اور اس کے چمڑے وغیرہ سے چیزیں تیا رکرتے ہیں۔مائکروسافٹ اینکارٹا کے مطابق چین میں 46 کروڑ،امریکہ میں 6کروڑ،برازیل میں 3کروڑاورجرمنی میں2.6کروڑ سؤر پائے جاتے ہیں۔یہ وہ ممالک ہیں کہ جہاں سب سے زیادہ سؤر پائے جاتے ہیں۔ مجموعی طورپر تقریباً 94کروڑ سؤر اس زمین پرپائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں سؤر کی کھال (Pigskin)یا چمڑے سے سوٹ کیس ،دستانے،بیلٹ اور فٹ بال تیا رکیے جاتے ہیں۔اس کے سخت بالوں سے برش تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کی چربی سے کئی مصنوعات تیارکی جاتی ہیں جو بیکری اور کھانابنانے میں استعما ل ہوتی ہیں ۔

روزنامہ پاکستان کی ویب سائٹ پر 24 جنوری 2015 کو ایک خبر شائع ہوئی ہے . جس کے مطابق  اسلام میں خنزیر کو ناپاک اور حرام قرار دیا گیا ہے مگر مغرب میں لوگ اس جانور کے گوشت کے نہایت شوقین ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے دین نے ہمیں اس جانور سے دور رہنے کا حکم دیا ہے کیونکہ جدید سائنسی تحقیق میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ٹیپ ورم نامی کیڑے کی ایک خاص قسم سؤر سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور یہ کیڑا دماغ میں پہنچ کر اسے کھانا شروع کردیتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس کیڑے کو سﺅر کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس کا نام بھی Pork Tapeworm یعنی ”سؤر ٹیپ ورم“ رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیپ ورم کی متعدد اقسام میں سے ایک خصوصی طور پر ایسا ہے کہ جو انسانی دماغ پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر ہیلنا ہیلبی کہتی ہیں کہ پورک ٹیپ ورم خاص طور پر انسانی دماغ کو نشانہ بناتا ہے۔
اس کیڑے کی قسم Teenia Solium دو طرح سے انسانی جسم میں داخل ہوسکتی ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ سؤرکا نیم گلا ہوا گوشت کھا لیا جائے۔ گوشت پوری طرح پکا نہ ہونے کی صورت میں کیڑے کے انڈے اس میں موجود رہتے ہیں اور آنتوں میں جاکر ان انڈوں سے کیڑے نکل آتے ہیں جو اعصابی نظام میں شامل ہوکر سیدھے دماغ تک جاتے ہیں۔ دوسری صورت اس کیڑے کے لاروا کی صورت میں سؤر کے فضلے میں پائی جاتی ہے۔ سؤروں کے قریب موجود لوگ فضلے سے براہ راست یا اس کے پانی میں شامل ہونے سے کیڑے کا شکار بن جاتے ہیں۔ جب یہ کیڑا جسم میں داخل ہوجاتا ہے تو Neurocysticercosis نامی بیماری جنم لیتی ہے جو شروع میں مرگی، اعضاءکا فالج اور بالآخر موت کا سبب بنتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس خوفناک بیماری کا تاحال کوئی مکمل علاج دستیاب نہیں ہے البتہ کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی چند ادویات کو اس بیماری پر قابو پانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق سؤر سے دور رہنا ہی اس دردناک مرض سے بچنے کا اصل طریقہ ہے۔
قارئین کرام : آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآن کے سؤر کو حرام قرار دینے میں کتنی مصلحتیں ہیں ۔ اللہ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودا ت پر ہمار ا ایمان پہلے بھی تھا اور آج سائنس کی بدولت اللہ نے ہمیں ان خطرات سے آگاہ بھی فرما دیا ہے کہ جو سؤر کے کھانے سے ہمیں پہنچ سکتے تھے ۔یقینا ہمارا رب ،اس کا پیغمبر ،ہادی و رہبرجناب محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ،اور اس کی لاریب کتاب قرا ن حکیم ، سب سچے اور ہدایت ورہنمائی کا واحد ذریعہ ہیں ۔



پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

ٹیگز: , , , , , , , ,

تبصروں کی تعداد: 2. »

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹٹریک بیک کریں اپنی سائیٹ سے. آپ کرسکتے ہیں Comments Feed بذریعہ ار ایس ایس.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں...

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں

<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong> 

یہ ایک گریویٹار اینیبلڈ ویب سائیٹ ہے۔ اپنا عالمی سطح پرتسلیم شدہ اوتار حاصل کرنے کے لیے رجسٹر کریں گریوٹار.