فلکیات »

January 9, 2013 – 3:49 am | ترمیم

عذاب ِیوم کے دن کی طوالت پچاس ہزار سال ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

ستاروں کے چال چلن سے لوگ مستقبل کا حال بتاتے ہیں ۔ طرح طرح کے دل دہلانے والے انکشافات …

مزید پڑھیے »
ہم مسلمان کیسے ہوئے؟

کن سائنسی تحقیقات کے نتائج نے ہمیں اسلام کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا اور پھر ہم مسلمان ہو گئے

صحت وتندرستی

انسانی صحت کے متعلقہ انٹرنیٹ پٔر شائع ہونے والے مفید مضامین پڑھیے

سائنسی خبریں

سائنسی شعبہ میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات پر مشتمل مضامین پڑھیے

موسمیات

ہوا ، بادل ،پانی اور بارش کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اللہ کی قدرت ان میں کیسے جلوہ گر ہے .

تمہید و ابتدائیہ

قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے ، وغیرہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔

صفحہ اول » سائنسی خبریں

خشک افریقہ کے نیچے پانی ہی پانی

کاتب نے – May 17, 2012 – کو شائع کیا 2 تبصرے

خشک افریقہ کے نیچے پانی ہی پانی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک سالی کے لیے معروف براعظم افریقہ کے نیچے زمینی پانی کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ان کا کہنا ہے کہ زمین کے اندر موجود پانی کا کل حجم زمین کی سطح پر موجود پانی سے سو گنا ہے۔محققین نے اس پوشیدہ ذخیرے کا ایک نہایت تفصیلی جائزہ شائع کیا ہے۔’اینوائرنمینٹل ریسرچ لیٹرز‘ نامی جریدے میں شائع کیے گئے اس تجزیہ میں انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وسیع پیمانے پر کنویں کھودنا بھی ٹھیک نہ ہوگا۔

افریقہ کے مختلف علاقوں میں تیس کروڑ افراد کے پاس پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے۔آئندہ برسوں میں آبادی کے بڑھنے اور کاشتکاری کے لیے آب پاشی کے پیشِ نظر پانی کی مانگ میں اضافے متوقع ہیں۔موسمی سیلابوں اور خشک سالی کی وجہ سے کاشتکاری کے لیے تازہ پانی کے دریاؤں اور جھیلوں کی رسد محدود رہتی ہے۔ اس وقت قابلِ کاشت زمین کا صرف پانچ فیصد حصے میں آب پاشی کا انتظام ہے۔اب پہلی بار سائنسدان پورے براعظم کا زیرِ زمین پانی کے ذخائر کا جائزہ لے سکے ہیں۔ برطانوی جیولوجیکل سروے اور یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے مل کر پانی کے ان ذخائر کا ایک تفصیلی نقشہ مرتب کیا ہے۔

ہیلن بونسر نے بھی اس تحقیق میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو زیرِ زمین پانی پر غور نہیں کیا گیا تاہم اس تحقیق کے بعد لوگوں کو اس کے ممکنہ فوائد کا اندازہ ہوگا۔صدیوں پر محیط ماحولیاتی تبدلیوں کی وجہ سے صحارا ایک صحرا بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان زیرِ زمین ذخائر میں آخری بار پانی شاید پانچ ہزار سال پہلے بھرا ہو۔

محققین نے اس تحقیق میں اسی طرح کے موجودہ نقشوں اور حکومتی تحقیقوں سمیت دو سو تراسی مزید تجزیوں کو بھی شامل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک جنہیں ’انتہائی کم پانی والے‘ قرار دیا جا چکا ہے، ان کے نیچے پانی کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔تاہم سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ بہت سارے بڑے بڑے کنویں کھودنے سے بھی مسئلہ شاید حل نہیں ہوگا۔

اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایلن مکڈونلڈ کا کہنا تھا کہ زیرِ زمین پانی کی طرز اور مقامی حالات کو پوری طری سمجھے بغیر بڑے بڑے کنویں نہیں کھودے جانے چاہئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صحیح طور پر مقامات کی نشاندہی اور کم پانی نکالنے والے دستی پمپ یا آہستہ چلنے والے دیہاتی کنویں ہی استعمال ہونے چاہئیں۔ بارش کی کمی کی وجہ سے سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ زیادہ بڑے کنویں کھودنے سے یہ ذخیرہ کہیں ختم نہ ہو جائے۔

ہیلن بونسرکے مطابق پانی نکالنے کے آہستہ طریقے کبھی زیادہ مفید ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ افریقہ میں پینے کے لیے اور کسی حد تک آب پاشی کے لیے زمینی پانی موجود ہے۔

ماخذ

پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

ٹیگز: , , , , , , , , , ,

تبصروں کی تعداد: 2. »

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹٹریک بیک کریں اپنی سائیٹ سے. آپ کرسکتے ہیں Comments Feed بذریعہ ار ایس ایس.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں...

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں

<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong> 

یہ ایک گریویٹار اینیبلڈ ویب سائیٹ ہے۔ اپنا عالمی سطح پرتسلیم شدہ اوتار حاصل کرنے کے لیے رجسٹر کریں گریوٹار.