فلکیات »

January 9, 2013 – 3:49 am | ترمیم

عذاب ِیوم کے دن کی طوالت پچاس ہزار سال ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

ستاروں کے چال چلن سے لوگ مستقبل کا حال بتاتے ہیں ۔ طرح طرح کے دل دہلانے والے انکشافات …

مزید پڑھیے »
ہم مسلمان کیسے ہوئے؟

کن سائنسی تحقیقات کے نتائج نے ہمیں اسلام کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا اور پھر ہم مسلمان ہو گئے

صحت وتندرستی

انسانی صحت کے متعلقہ انٹرنیٹ پٔر شائع ہونے والے مفید مضامین پڑھیے

سائنسی خبریں

سائنسی شعبہ میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات پر مشتمل مضامین پڑھیے

موسمیات

ہوا ، بادل ،پانی اور بارش کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اللہ کی قدرت ان میں کیسے جلوہ گر ہے .

تمہید و ابتدائیہ

قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے ، وغیرہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔

صفحہ اول » حالات حاضرہ

اوریا مقبول جان کا بہترین کالم پڑھیے : لا شیں نہیں اعدادوشمار

کاتب نے – December 31, 2012 – کو شائع کیا 3 تبصرے

اوریا مقبول جان کا بہترین کالم پڑھیے  : لا شیں نہیں اعدادوشمار

میں جب اپنے معاشرے میں بے خوفی اور قتل وغارت کی انتہاء دیکھتا ہوں تو اپنے "دقیانوسی" اور "پرانے خیالات "کی وجہ سے اپنے اللہ  کے فرامین میں حل ڈھونڈنے لگ جاتا ہوں ۔ اللہ نے انسانوں کی زندگی کے لئے oria maqboolایک ایسا اصول بتایا ہے جسے آج کی "مہذب" او ر"انسانی حقوق" کی علمبردار دنیا وحشیانہ اصول کہتی ہے ۔ اللہ نے فرمایا :"ہم نے قصاص میں تمہارے لئے زندگی رکھ دی ہے "۔ لیکن گزشتہ آٹھ برسوں سے میرے ملک کے حکمرانوں کے لیے سب سے پیارے ،لاڈلے اور قابلِ احترام وہ لوگ ہیں جنہیں عدالتوں نے قتل ،دہشت گردی ،اغوا، جنسی تشدد اور دیگر جرائم میں پھانسی کی سزا سنا رکھی ہے ۔ سپریم کورٹ تک میں ان کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں ۔ اب یہ کئی سو مجرم صدرپاکستان کے پاس رحم کی اپیل کرکے چین سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ مطمئن ہیں کہ عالمی دباؤ ،انسانی حقوق کی انجمنیں ،سول سوسائٹی انہیں کبھی پھانسی گھاٹ تک جانے نہیں دے گی اور ایسا ہو بھی رہا ہے ۔ ہم اپنے فعل سے دنیا کو بتادینا چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے اس قانون کو وحشیانہ قانون سمجھتے ہیں ۔ دنیا  میں یہی واویلا ہے ۔ اس سےمجرموں  کے دلوں سے موت کا خوف غائب ہوتا ہے ۔جب امریکہ نے 1972ء سے  1976 ء تک سزائے موت پر عارضی طور پر پاپندی لگائی تو وہاں کے محققین نے اعدادو شمار جمع کرنے شروع کئے ۔پاپندی سے پہلے 1960 ء میں امریکہ میں 59 افراد کو پھانسی دی گئی ۔ اُس سال ملک میں 9140 لوگ قتل ہوئے ۔  1964ء میں حکومت نے نرم رویہ اختیار کیا، 15 افراد کو پھانسی ہوئی اور قتل ہونے والوں کی تعداد9250 تھی کہ ابھی خوف قائم تھا۔ 1969ء میں حکومت نے کسی کو پھانسی نہ دی اور قتل ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 14590 ہو گئی ۔

2521_94994070

 

پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

ٹیگز: , , , , , , ,

تبصروں کی تعداد: 3. »

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹٹریک بیک کریں اپنی سائیٹ سے. آپ کرسکتے ہیں Comments Feed بذریعہ ار ایس ایس.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں...

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں

<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong> 

یہ ایک گریویٹار اینیبلڈ ویب سائیٹ ہے۔ اپنا عالمی سطح پرتسلیم شدہ اوتار حاصل کرنے کے لیے رجسٹر کریں گریوٹار.