فلکیات »

January 9, 2013 – 3:49 am | ترمیم

عذاب ِیوم کے دن کی طوالت پچاس ہزار سال ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

ستاروں کے چال چلن سے لوگ مستقبل کا حال بتاتے ہیں ۔ طرح طرح کے دل دہلانے والے انکشافات …

مزید پڑھیے »
ہم مسلمان کیسے ہوئے؟

کن سائنسی تحقیقات کے نتائج نے ہمیں اسلام کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا اور پھر ہم مسلمان ہو گئے

صحت وتندرستی

انسانی صحت کے متعلقہ انٹرنیٹ پٔر شائع ہونے والے مفید مضامین پڑھیے

سائنسی خبریں

سائنسی شعبہ میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات پر مشتمل مضامین پڑھیے

موسمیات

ہوا ، بادل ،پانی اور بارش کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اللہ کی قدرت ان میں کیسے جلوہ گر ہے .

تمہید و ابتدائیہ

قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے ، وغیرہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔

صفحہ اول » انسانی بدن و اعضاء

بلندی پر سانس لینے میں دُشواری جدید سائنس اور قرآن مجید کی روشنی میں

کاتب نے – January 11, 2013 – کو شائع کیا 7 تبصرے

بلندی پر سانس لینے میں  دُشواری جدید سائنس اور قرآن مجید کی روشنی میں

آکسیجن فضا میں 21 فیصد بلحاظ حجم اور پانی میں 88.8 فیصد بلحاظ وزن پائی جاتی ہے ۔ یہ ایک بے رنگ ،بے بو گیس گیس ہوتی ہے یہ پانی میں معمولی حل پذیر گیس ہے ۔پانی میں تھوڑی سی مقدار میں آکسیجن حل ہونے سے پانی کے جاندار مچھلیاں وغیرہ اور تمام سمندری جاندار پانی میں سانس لیتے ہیں ۔ آرگینک کمپاؤنڈ مثلاً گلوکوز،سٹارچ،سیلولوز،چکنائیوں اورپروٹین میں آکسیجن ہوتی ہے ۔ پودے فوٹو سنتھیسز کے عمل میں گلوکوز کے ساتھ ساتھ آکسیجن بھی پیدا کرتے ہیں ۔XE_00817_XL

سانس لیتے ہوئے ہوا سے آکسیجن ہمارے پھیپھڑوں میں جاتی ہے اور خون میں حل ہو کر ہیموگلوبن کے ذریعے جسم کے تمام زندہ خلیوں میں جاتی ہے جہاں یہ گلوکوز سے مل کر انرجی پیدا کرتی ہے اور جو کاربن ڈائی آکسائڈ (CO2)   اس عمل میں پیدا ہوتی ہے پھیپھڑوں کے ذریعے باہر فضا میں خارج ہوتی ہے ۔

1772ء میں کارل شيلے نے پوٹاشيم نائٹریٹ (KNO3) کو گرم کر کے آكسيجن گیس تیار کی، لیکن ان کا یہ کام  1777ء میں شائع ہوا۔ 1774ء میں جوزف پرسٹلے نے مرکیورک آکسائڈ (HgO) کو گرم کر کے آكسيجن گیس کو تیار کیا۔ اےنٹوني لےووجير نے اس گیس کی خصوصیات کو بیان کیا اور اس کا نام آكسيجن رکھا، جس کا مطلب ہے "تیزاب پیدا کرنے یا بنانے والا"۔

سانس جانداروں کے لیے اس قدر ضروری ہے کہ اگر دماغ کو چند منٹ آکسیجن نہ ملے تو یہ فقظ ایک مشت خاک سے زیادہ کچھ نہیں رہتا ۔ بدن کا تمام نظام ریت کے محل کی طرح زمین بوس ہو جائے گا۔سانس جسم میں آکسیجن دینے کا واحد ذریعہ ہے ۔ ضرورت کےمطابق سانسوں کا زیرو بم آکسیجن کی مقدار گھٹاتا بڑھاتا ہے ۔ پھر خون اس آکسیجن کو دل کے پمپ ہاوس سے بدن کے ہر ہر عضو کو پہنچاتا ہے ۔ سانس جسم سے گندے مادوں کو کاربن ڈائی آکسائڈ کی صورت اخراج کا کام بھی کرتی ہے ۔  اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ سانس کتنی اہم ہے ۔ اگر یہ ڈوری ٹوٹ جائے تو رُوح کا جسم سے سے رشتہ یوں ٹوٹ جاتا ہے جیسے کبھی شناسائی ہی نہ تھی۔

جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہو ا، لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص بلندی کی طرف جائے گا اسے زیادہ تازہ ہوا ،زیادہ فرحت اور زیادہ خوشی حاصل ہوگی ،لیکن جدید دور میں جب انسان نے ہوائی جہاز ایجاد کیا اور وہ تیس چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے لگاتو اسے پتہ چلاکہ بلندی پر جاتے ہوئے نسبتاً کم آکسیجن مہیا ہوتی ہے اور سانس لینے میں بہت دشواری پیش آتی ہے ۔اس شدید گھٹن سے بچنے کے لیے ہوائی جہازوں میں مصنوعی آکسیجن لے جانے کا انتظام کیا جاتا ہے ۔

نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اس قدر بلندی پر جانے کا تصور تھا نہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈکا ، لیکن قرآن مجید میں سورۃ الانعام کی  یہ آیت ہمیں حیرت میں ڈال دیتی ہے :

فَمَن يُرِ‌دِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَ‌حْ صَدْرَ‌هُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِ‌دْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَ‌هُ ضَيِّقًا حَرَ‌جًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّـهُ الرِّ‌جْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿125﴾

"پس (یہ حقیقت ہے کہ ) اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ رکھتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے او ر جسے گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ تنگ اور گھُٹا ہوا کر دیتا ہے

گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے (بلندی کو جارہا ہے )"۔

 


371309

 

بلندی پر چڑھتے ہوئے سینہ تنگ ہونے کی مثال اعجازِ قرآنی کی معرکة الآراءمثال شمار ہوتی ہے۔ اس لئے کہ طب جدید کی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ بلندی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دَم گھٹنے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ آج سے سوا چودہ سو سال پہلے اس سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے

ماخذ:۔

1۔http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%DA%A9%D8%B3%DB%8C%D8%AC%D9%86

2۔قرآن سائنس اور ٹیکنالوجی از شفیع حیدر دانش صدیق

3۔اسلا کی سچائی اور سائنس کے اعترافات از محسن فارانی

4۔آئینہ جنرل سائنس از چوہدری بہار علی

پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

ٹیگز: , , , , , , , , , , , , , , ,

تبصروں کی تعداد: 7. »

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹٹریک بیک کریں اپنی سائیٹ سے. آپ کرسکتے ہیں Comments Feed بذریعہ ار ایس ایس.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں...

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں

<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong> 

یہ ایک گریویٹار اینیبلڈ ویب سائیٹ ہے۔ اپنا عالمی سطح پرتسلیم شدہ اوتار حاصل کرنے کے لیے رجسٹر کریں گریوٹار.