فلکیات »

January 9, 2013 – 3:49 am | ترمیم

عذاب ِیوم کے دن کی طوالت پچاس ہزار سال ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

ستاروں کے چال چلن سے لوگ مستقبل کا حال بتاتے ہیں ۔ طرح طرح کے دل دہلانے والے انکشافات …

مزید پڑھیے »
ہم مسلمان کیسے ہوئے؟

کن سائنسی تحقیقات کے نتائج نے ہمیں اسلام کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا اور پھر ہم مسلمان ہو گئے

صحت وتندرستی

انسانی صحت کے متعلقہ انٹرنیٹ پٔر شائع ہونے والے مفید مضامین پڑھیے

سائنسی خبریں

سائنسی شعبہ میں ہونے والی جدید ترین تحقیقات و انکشافات پر مشتمل مضامین پڑھیے

موسمیات

ہوا ، بادل ،پانی اور بارش کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ اللہ کی قدرت ان میں کیسے جلوہ گر ہے .

تمہید و ابتدائیہ

قرآن مجید کس طرح جمع ہوا ، کیا اسلام اور سائنس میں تضاد ہے ، وغیرہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔

صفحہ اول » سائنسی خبریں

کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد سابقہ اندازوں سے بھی 10 گنا زیادہ

کاتب نے – October 18, 2016 – کو شائع کیا ایک تبصرہ

  کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد سابقہ اندازوں سے  بھی 10 گنا زیادہ

 ناٹنگھم ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ قابلِ مشاہدہ کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد ہمارے سابقہ اندازوں سے کم از کم 10 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

پہلے یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ کائنات میں کہکشاؤں کی مجموعی تعداد 100 ارب (ایک کھرب) سے لے کر 200 ارب (دو کھرب) تک ہوسکتی ہے لیکن تازہ تحقیق کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی کم از کم 10 گنا زیادہ یعنی 2000 ارب (2 ٹریلین) یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

   کہکشاؤں کی مجموعی تعداد  کائنات میں کہکشاؤں

یونیورسٹی آف ناٹنگھم برطانیہ کے سائنسدانوں نے ہبل خلائی دوربین اور دوسری رصدگاہوں کے مشاہدات استعمال کرتے ہوئے جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ قریب ہیں اور خلاء کے اکائی حجم (یونٹ والیوم) میں ان کی تعداد بھی ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کم از کم 10 گنا زیادہ ہے۔

سائنسدانوں ن ے اس مقصد کے لیے ’’ہبل ڈیپ فیلڈ‘‘ اور ’’ہبل الٹرا ڈیپ فیلڈ‘‘ نامی فلکی مشاہدات سے استفادہ کیا تھا جو ہبل خلائی دوربین نے 1997 سے 2014 کے دوران کیے تھے جب کہ ان مشاہدات میں زمین سے 5 ارب نوری سال سے لے کر 10 ارب نوری سال دور تک واقع کہکشاؤں کا مطالعہ کیا گیا تھا۔ ان ہی مشاہدات کی بنیاد پر فلکیات دانوں نے اندازہ لگایا تھا کہ کائنات میں 100 ارب سے 200 ارب تک کہکشائیں ہوسکتی ہیں۔

سائنسدانوں نے طاقتور کمپیوٹروں کی مدد سے ان مشاہدات کا ایک بار پھر تجزیہ کیا اور انہیں سہ جہتی عکس (3D image) میں تبدیل کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ہبل ڈیپ فیلڈ/ الٹرا ڈیپ فیلڈ میں جن اجرامِ فلکی کو ستارے سمجھ لیا گیا تھا، وہ دراصل ’’بونی کہکشائیں‘‘ (dwarf galaxies) ہیں۔ ایسی ایک بونی یا چھوٹی کہکشاں میں ’’صرف‘‘ ایک ارب کے لگ بھگ ستارے ہوتے ہیں۔

green-abstract-outer-space-galaxies-planets-orbit-1440x900

ان چھوٹی کہکشاؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جب ایک بار پھر کائنات میں کہکشاؤں کا تخمینہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ تعداد ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کم از کم 10 گنا زیادہ ہے۔

اس نئی دریافت کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کائنات کی تاریخ اور ارتقاء پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی کیونکہ یہ فرق بہت زیادہ ہے۔ اس کے لیے ہمیں پوری قابلِ مشاہدہ کائنات کا ایک بار پھر سے تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔

واقعی! کائنات آج کے انتہائی ترقی یافتہ انسان کو بھی مسلسل حیران کیے جارہی ہے۔

کائنات کتنی بڑی ہے؟

واضح رہے کہ اب تک کے اندازوں کے مطابق ہماری ’’قابلِ مشاہدہ کائنات‘‘ کا نصف قطر (radius) تقریباً 13.8 نوری سال تک ہوسکتا ہے اور اس بنیاد پر حساب لگایا جائے تو اس کائنات کا حجم 2571 مکعب نوری سال کے لگ بھگ بنتا ہے۔ البتہ ان عجیب و غریب اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ ہم کائنات میں زیادہ سے زیادہ 13.8 ارب نوری سال دور تک واقع فلکی اجسام کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس سے آگے کائنات میں کچھ ہے بھی تو وہ ہمارے مشاہدے کی حدود سے باہر ہے۔

ماخذ

  

پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کیجئے

ٹیگز: , , , , , ,

ایک تبصرہ »

تبصرہ لکھيں!

آپ کا يہاں تبصرہ کرنا ممکن ہے، يا پھر آپ اپنی سائٹ سے ٹٹریک بیک کریں اپنی سائیٹ سے. آپ کرسکتے ہیں Comments Feed بذریعہ ار ایس ایس.

اس موضوع پر تبصرہ فرمائيں اور سپام سے اسے محفوظ رکھيں آپ کے ہم نہايت شکر گزار ہيں...

آپ درج ذيل ٹيگز استعمال کرسکتے ہيں

<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong> 

یہ ایک گریویٹار اینیبلڈ ویب سائیٹ ہے۔ اپنا عالمی سطح پرتسلیم شدہ اوتار حاصل کرنے کے لیے رجسٹر کریں گریوٹار.